فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13170
(348) نعرہ لگاتے ہوئے اپنے آپ کو کسی اور کی طرف منسوب کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 September 2014 02:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل بعض نوجوان نعرہ لگاتے ہیں:

 ہم بیٹے کس کے ساجد کے ؟۔۔۔۔۔ساجد کے

ہم فرزند کس کے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ساجد کے

کیا ایسے نعرہ لگانا جائز ہے؟اپنے آپ کو کسی اور کی طرف منسوب کرنا درست ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ہمارے روحانی باپ ہیں۔کیا حضرت آدم  علیہ السلام  کو ہمارا باپ کہا گیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نعرے بازی کا شریعت میں ثبوت نہیں۔ہاں البتہ غیر کو باپ یا بیٹا بطور الفت اور محبت قراردیا جاسکتا ہے  ۔فرمایا:

«انا لكم بمنزلة الوالد» حسنه الباني وشعب الارنووط وبشار عواد صحيح ابو دائود كتاب الطهارة با كراهية استقبال القبلة عند قضاء الحاجة (٨) نسائي (40) (ابودائود)

اسی طرح حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کتنی دفعہ بیٹا کہہ کر پکارتے تھے۔(صحيح مسلم كتاب الادب باب جواز قوله لغير ابنه يا بني واستحباب للملاطفة (٥٦٢٣)(ابودائود-٤٩٦٤) صحیح مسلم اور سنن ابی دائود میں اس کی  تصریح موجود ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کو ابو المومنین کہنے کے بارے میں شوافع کے ددقول ہیں صحیح جواز ہے۔احادیث الشفاعۃ میں حضرت آدم  علیہ السلام  کو باپ کے لفظوں سے یاد کیا گیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص627

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)