فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13140
سٹوڈنٹس کا کرایہ نہ دینا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 September 2014 09:48 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کالج اور یونیورسٹی کے طلباء لوکل بسوں پر جانے پر کرایہ نہیں دیتے ، کیا یہ درست ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرعا یہ بالکل ناجائز اور حرام ہے،اور دوسروں کے حقوق اور مال پر زبر دستی اور ڈاکہ ہے۔کیونکہ ان کی بسیں تیل پر چلتی ہیں اور کافی اخراجات آتے ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنا ٹائم بھی خرچ کرتے ہیں۔لہذا سٹوڈنٹس سمیت کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ ان بسوں پر بغیر کرائے کے سفر کریں۔یہ ان کے ساتھ ظلم اور ان پر زیادتی ہے،اور کل قیامت کے دن اس کا حساب ہوگا۔جس نے جتنا ظلم کیا ہو گا اس کی اتنی ہی نیکیاں لے کر اس مظلوم کو دے دی جائیں گے،لہذا بہتر یہی ہے کہ قیامت کے نیکیاں دینے کی بجائے آج دنیا کا مال ہی دے دیا جائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)