فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 1311
کلمہ طیبہ کے الفاظ کا ثبوت
شروع از بتاریخ : 16 June 2012 10:23 AM

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کسی حدیث میں پورا کلمہ لاإلہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ذکر ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کلمہ طیبہ لاإلہ الا اللہ محمد رسول اللہ  کے بعینہ الفاظ یکجا احادیث میں کہیں درج نہیں۔ اصل میں یہ اشھد أن لا إلہ إلا اللہ وأشھد أن محمد عبدہ و رسولہ کا مخفف ہے کہ جس میں اللہ کے ایک ہونے او رمحمدﷺ کے رسول ہونے کا پورا ذکر ہے۔

احادیث میں لا إلہ کے الفاظ وارد ہیں جیساکہ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

" أمرت أن أقاتل حتی یقولوا لا إلا إلا اللہ فإذا قالوا لا إلہ إلا اللہ فقد عصموا من اموالھم و انفسھم"  (المعجم الاوسط:6؍215)

’’ میں حکم دیا گیا ہوں کہ اس وقت تک لڑائی کرتا رہوں جب تک لوگ لا إلہ إلا اللہ نہ کہہ دیں جب وہ لا إلا إلا اللہ کہہ دیں تو انہوں نے مجھ سے اپنی جانوں او رمالوں کو محفوظ کرلیا۔‘‘

نبیﷺ اس حدیث میں بھی انہیں کلمہ کے توحید والے حصے کے اقرار کی بات کررہے ہیں اور ان کے الفاظ لا إلہ الا اللہ کے ہیں۔ اس طرح اگر کوئی اشھد أن لا إلہ کی جگہ پر لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ استعمال کرتا ہے تو اس میں کلمہ کا پورا مقصود او رمعانی بیان ہوجاتا ہے او راس کے جواز کی درج ذیل وجوہ ہیں:

1۔ کسی بھی زبان میں جمع کی ادائیگی کے وقت کچھ الفاظ مستور اور محذوف کئے جاتے ہیں اور عربی میں بھی اس کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں جیسے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا ترجمہ ’’میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے‘‘ جبکہ اس عربی عبارت میں ’’میں شروع کرتا ہوں ‘‘ کی کوئی عربی نہیں لہٰذا لامحالہ شروع میں أبتدا یا أشرع کے الفاظ محذوف نکالنے پڑتے ہیں۔

اسی طرح لا إلہ إلااللہ محمد رسول اللہ میں (أشھد أن) لا إلہ إلا اللہ (وأشھد أن) محمد رسول اللہ۔

خط کشیدہ الفاظ محذوف کردیئے جاتے ہیں جو قاری اور متکلم کے ذہن میں موجود ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس کا استعمال خود قرآن نے کیا اور احادیث میں جیسا کہ اوپر حدیث گزر چکی ہے اس میں بھی محذوف حکم موجود ہے جو لفظوں میں موجود نہیں۔اس لیے صرف لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ کے الفاظ ادا کئے جاسکتے ہیں۔ ہاں نماز میں التحیات میں یہ الفاظ بعینہ پڑھنا ضروری ہیں کیونکہ نماز میں ادا کئے گئے الفاظ مقررہ ہیں ان میں کہیں زیادتی یا کمی نہیں کی جاسکتی۔

لا إلہ إلا اللہ کے مخفف ہونے اور اس کے کلمہ کی جگہ پر استعمال پر اہل علم کا اجماع ہے اہل علم کا اس پر اجماع ہے کسی سے کوئی نکیر ثابت نہیں لہٰذا اس کا استعمال مشروع ہے۔

وبالله التوفيق

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)