فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13108
(309) فوتگی کے ایک ہفتہ بعد لواحقین کا اہل محلہ کو کھانا کھلانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 August 2014 11:15 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آدمی کے فوت ہونے سے پہلے تقریباً ایک ہفتہ بعد لواحقین اہل محلہ اورگاؤں کے عام لوگوں کو کھانے کی دعوت دیتے ہیں۔قرآن وحدیث میں اس کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کھانے کی ایسی مجالس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ اس لئے کہ یہ طریقہ کار سنت نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت نہیں ہے۔حدیث میں ہے:

«من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه فھو رد»(صحيح البخاري كتاب الصلح باب اذا اصطلحوا علي صلح جور فالصلح مردود (٢٦٩٧)

یعنی'' جوکوئی دین میں اضا فہ کرتا ہے وہ مردود ہے۔''

یاد رہے سوئم دسواں بیسواں چالیسواں چھ ماہی برسی وغیرہ سب بدعات کے زمرہ میں شامل ہیں۔

''شرح المنہاج'' نووی اور حنفی فقہ کی کتابوں میں ہے:

’’ اتخاذ الطعام في اليوم الثالث والسادس والعاشر والعشرين وغيرها بدعة مستقبحة ’’

 یعنی مذکورہ امور قبیح بدعت ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص599

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)