فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13101
(302) ’یزدانی‘ تخلص رکھنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 August 2014 10:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا یزدانی تخلص رکھنا شرعی لہاظ سے جائز ہے؟کیونکہ بعض کا خیال ہے کہ لفظ یزدان نامی ایرانیوں کا دیوتا تھا۔ بعض اپنے آپ کو صاحب علم کہلوانے والے یزدانی تخلص رکھنے والے کو مشرک گردانتے ہیں۔شرعی صورت حال کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واقعی یزداں مجوسیوں کے معروف دو دیوتاؤں سے ایک ہے۔لہذا اس تخلص سے اجتناب ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ غیر اللہ کی طرف نسبت کو فال خیر قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہ تو در اصل ا س سے ناطہ جوڑنے والی بات ہے جو ایک باخبر کے کسی صورت لائق نہیں۔

فیرو ز لغات (فارسی ۔اردو) میں ہے:

''اسلام سے پہلے اہل ایران دو خداؤں کو مانتے تھے۔جن میں سے نیکی کے خدا کو ''یزدان'' اور بُرائی کے خدا کو ''اہرمن'' کہتے تھے۔''

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص593

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)