فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13100
(301) ’عبدالرسول۔ عبدالنبی‘ جیسے نام رکھنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 August 2014 10:37 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ( عبدالرسول –عبدالنبي) نا م  رکھنا  درست  نہیں  جب  کہ عبد  خا د م ، یا غلا م  کے معنی  میں استعما ل  كی نیت ہو؟عبادت کی نیت سے ہو ۔اور پھر قرآن وحدیث میں '' عباد لہ''  کالفظ خادموں یا نوکروں کے لئے استعمال ہوا ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت شاہ ولی اللہ صاحب مرحوم نے زیر آیت ﴿فَلَمَّا تَغَشَّاهَا﴾ ایسے ناموں کوشرک لکھا ہے۔فرماتے ہیں:

''از ینجا دانستہ شد شرک در تسمیہ نوعیت ازشرک چنانکہ اہل زمان ما غلام فلاں عبد فلاں نام می نہند ۔''(بحوالہ فتاویٰ ثنائیہ :1/379)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص592

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)