فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13069
(269) گیارہویں کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 August 2014 11:05 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

گیارہویں کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو چیز ماسوائے اللہ کے لئے نامزد کی جائے وہ حرام ہے۔

قرآن مجید میں ہے؛

﴿وَما أُهِلَّ بِهِ لِغَيرِ‌ اللَّـهِ...١٧٣﴾... سورة البقرة

‘‘اورجس چیز پر اللہ کے سوا کسی اورکا نام پکاراجائے۔حرام کردیا’’

حاشیہ جالندھری ہے۔ یہ  ترجمہ لغوی معنوں کی بنا پر کیاگیا ہے۔لغت میں '' اہلال'' کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں۔مفسرین جو اس لفظ کے معنوں میں ذبح کا لفظ شامل کرتے ہیں۔وہ شان نزول کے لہاظ سے کرتے ہیں۔کیونکہ جاہلیت میں جو جانور غیر اللہ کے لئے مقرر کیاجاتاتھا۔ذبح کرنے کے وقت بھی اس غیر کا نام لیاجاتا تھا۔ ورنہ حقیقت میں جو چیز غیر اللہ کے لئے مقرر کی جائے خواہ وہ جانور ہو یا اور کچھ حرام ہے۔ اس لئے کہ آیت میں حرف''ما'' استعمال فرمایا گیا ہے۔جس کے معنی ہیں جو چیز اور وہ عام ہے۔زبح حیوان اور دیگر چیزوں کو خواہ کھانے کی ہو یا پہننے کی یا اور طرح استعمال کرنے کی سب کو شامل ہے۔حرمت وحلت میں نیت کو بڑا دخل ہے۔ مثلا جو جانور غیر اللہ کے لئے مقرر کیاگیا ہو اس پر زبح کے وقت اللہ کانام لیاجائے یا غیر  اللہ کا حرمت کے لہاظ سے برابر ہے۔اللہ کا نام لینے سے وہ حلال نہ ہوگا علماء کرام نے لکھا ہے کہ کہ اگر کسی مسلمان نے کوئی جانورغیر اللہ کے تقرب کے لئے ذبح کیا وہ اسلام سے خارج ہوگیا اور وہ جانور ایسا ہوگیا جیسا مرتد کا ذبح کیا ہوا۔(1)بہرحال نذر کی نیت اللہ کے لیے ہی کرنی چاہیے۔ اور ذبح کرنے کے وقت اس پر اسی وحدہ لا شریک کا نام لینا چاہیے۔کیونکہ وہ اپنے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروانا چاہتا۔گیارہویں بھی چونکہ جہلاء قوم باسم شیخ عبد القادر جیلانی  رحمۃ اللہ علیہ  دیتے ہیں۔لہذا وہ بھی حرام ہے اس کا کھاناناجائز ہے۔


 

1۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے  فرمایا(( لاعقر فی الاسلام )) امام ابو دائود نے اس مسئلہ پر ان الفاظ کے ساتھ باب قائم کیا ہے:'' باب کراہیۃ الذبح عند القبر'' پھر اوپر والی حدیث بیان کی ۔وقال عبد الرزاق :کانوا عن القبر بقرہ او شاۃ صحیح ابی دائود (2/520)(3222) للبانی ۔وہ (یعنی مشرک) قبر کے پاس گائے یا بکری کو زبح کرتےتھے۔ حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں۔''اور یہ لوگ جو بزرگوں کےلئے جو حیوانات (مرغیوں بکریوں وغیرہ) کی نذر مانتے ہیں اور پھر ان کو قبروں پر لے جا کر ذبح کرتے ہیں تو فقہی روایات میں اس فعل کو بھی شرک میں داخل کیا گیا ہے۔'' (مکتوب امام ربانی دفتر سوم مکتوب :419 بحوالہ تفسیر احسن البیان (ص848) فقہ حنفی کی مشہور کتاب ''درمختار'' میں ہے۔واعلم ان النذر الذي يقع للاموات من اكثر العوام الي ضريح الاولياء الكرام تقربا اليهم فهو بالاجماع باطل وحرام :’’(آخركتاب الصوم)اس در مختار كی شرح فتاویٰ شامی (2/139) مطلب فی النذر) میں اس کے باطل اور حرام ہونے کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ '' والنذر لمخلوق لايجوز لانه عبادة والعبادة لاتكون لمخلوق ’’اور یہی فتوی فتاویٰ عالم گیری میں دیکھئے (1/216) باب الاعتکاف بحوالہ تفسیر احسن البیان (ص 85)امام نووی شارح مسلم فرماتے ہیں۔''ایسے جانور سےجو غیر اللہ کی تعظیم کے لئے  کاٹا گیا ہو مطلقاً پر ہیز کرے گو اس پر کاٹے وقت اللہ تعالیٰ کانام لیا جاوے۔(شرح صحیح مسلم، کتاب الاضاحی باب تنحریم الذبح لغیر اللہ تعالیٰ (حافظ ثناء اللہ مدنی )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص568

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)