فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 13049
(249) دست شناسی کی شرعی حیثیت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 27 August 2014 01:34 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا دست شناسی غیر اسلامی علم ہے؟ جو ہاتھ دیکھاتے ہیں اور جو دیکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں قرآن وسنت میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دست شناسی کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں بلکہ عراف(ماضی اور مستقبل کی خبریں دینے والا) کے پاس آمد سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشادگرامی ہے:جو شخص عراف یا کاہن کے پاس آیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی تو اس نے شریعت سے کفرکیا۔( صحيح مسلم كتاب الطب باب تحريم الكهانة واتيان الكهان (٥٨٢١) المشكاة (٤٥٩٥) احمد (٤/٦٨)(مسند احمد بحولہ شرح العقیدۃ الطحاویۃ ۔516)

سو جہاں تک ڈاکٹری یا حکیمانہ تجربات ودست شناسی کا تعلق ہے۔سو اس کا غیبی امور سے کوئی تعلق نہیں یہ تو محض انسانی جسم میں عادات کے متعلق جاری وساری نظام وکیفیت سے آگاہی حاصل کرنے سے عبارت ہے جو عہد نبوت سے لے کر آج تک معمول رہا ہے۔

عامل اور معمول بہ کی چالیس روز تک عبادت قبول نہیں ہوتی۔(ححه ابن كثير واحمدشاكر والالباني والحاكم والذهبي صحيح الترمذي كتاب الطهارة باب ما جاء في كراهية اتيان الحائض (١٣٥) وابن ماجه (٦٣٩) واحمد (٢/٤٢٩-٤٧٦) التفسير (١/190-192) لابن كثير والحاكم (١/٨) (١٥) والارواء (٦٨ تا70)(مسلم ومسند احمد) اور مذکورہ روایت میں ہے کہ ایسا شخص جس نے کاہن کی بات کی تصدیق کی اس نے شریعت سے کفرکیا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص560

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)