فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13017
(217) جزا اور سزا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 26 August 2014 10:55 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین شخص کی جزا اور سزا کی بابت ؟

1۔جو یہ کہے کہ نمازوں کا قرآن میں کوئی وجود نہیں ۔(رکعات والی نمازیں) اس لئے رکعتوں والی نمازوں  کا پڑھنا ضروری نہیں ہے۔اور یہ کہ اس کا اپنے ایک عزیز کو نماز پڑھنے (باجماعت) کے بارے میں پیٹنا بھی ثابت ہوچکا ہے۔

2۔اور یہ کہ پردہ کے بارے میں اسلامی احکامات کی نفی اور مذاق کرتا ہے۔

3۔منکر حدیث ہے جب کہ صرف قرآن کو ماننے کا دعویٰ کرتا ہے۔قرآن کے احکامات کی مختلف  تاویلات کرتا ہے پس منظر میں قرآن کا منکر بھی معلوم ہوتا ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکورہ صفات کا حامل انسان مرتد اور خارج از اسلام ہے اور ارتداد کی سزا کتاب وسنت میں معروف ہے ۔فرمایا :

"" من بدل دينه فاقتلوه ’’(انظر الرقم المسلسل (٣٨)

 حدود كا نفاذ اسلامی حکومت کے اہم  ترین فرائض میں سے ایک فریضہ ہے صحیح حدیث میں ہے:

’’ الامام راع ومسئول عن رعيته ’’(صحيح البخاري كتاب الجمعة باب الجمعة في القري والمدن (٨٩٣) (2409-2554-2558-2751-7138) صحيح مسلم كتاب الامارة باب فضيلة الامير العادل ........(٤٧٢٤-٤٧٢٩)

یعنی '' اما م ،حاکم، خلیفہ زمہ دار ہے۔ اور روز جزا اللہ کے حضور ر عیت کے بارے میں جواب دہ ہوگا۔''

واضح ہو کہ جو شخص منکر حدیث ہے وہ لازماً ساتھ منکرقرآن بھی ہے۔ کیونکہ دونوں کا آپس میں تلازم ہے۔ایک کا انکار دوسرے کے انکار کو مستلزم ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص530

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)