فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 13015
خود کو کسی کام کرنے پر کافر کہنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 26 August 2014 10:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید  نے کہا  کہ اگر میں فلا ں  کا م کرو ں  تو کا فر ہو جا ؤں  پھر  وہ  یہ کا م  کر بھی  لیتا ہے  تو کیا وہ  کا فر ہو جا ئے گا ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسے  شخص  کو اپنے فعل  سے تا ئب  ہو نا چا ہیے  اور اگر وہ اس  پر مصر ہوا  اور تو بہ  کے لیے  تیا ر نہ ہوتو  اس کا عودا لی  الکفر  ہو گا قرآن مجید میں ہے ۔

﴿وَالَّذينَ إِذا فَعَلوا فـٰحِشَةً أَو ظَلَموا أَنفُسَهُم ذَكَرُ‌وا اللَّـهَ فَاستَغفَر‌وا لِذُنوبِهِم وَمَن يَغفِرُ‌ الذُّنوبَ إِلَّا اللَّـهُ وَلَم يُصِرّ‌وا عَلىٰ ما فَعَلوا وَهُم يَعلَمونَ ﴿١٣٥﴾... سورة آل عمران

"اور  وہ  کہ جب  کو ئی کھلا  گنا ہ  یا اپنے  حق  میں کوئی  اور برا ئی  کر بیٹھتے ہیں  تو اللہ  کو یا د  کر تے ہیں  اور اپنے  گنا ہوں  کی بخشش ما نگتے  ہیں  اور  اللہ کے سوا  گنا ہ  بخش  بھی  کو ن ہو سکتا ہے  اور جان  بو جھ  کر اپنے  افعال پر  اڑے  نہیں رہتے ۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص514

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)