فتاویٰ جات: نماز
فتویٰ نمبر : 13
(113) وساوس کا علاج
شروع از بتاریخ : 18 September 2011 01:30 PM
السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ

 جناب اکثر ایسا  ہوتا ہے  کہ دل بہت پریشان سا ہوجاتا ہے  لیکن کچھ سمجھ ہی نہیں آتی کہ کیا ہوجاتا ہے ۔یہاں تک کہ کبھی کبھی پتہ بھی نہیں چلتا کہ  نماز میں کیا پڑھا ہے۔ تو کیا اس کیفیت پر ہمیں نماز پڑھنے پر گناہ ہوتا  ہے ۔؟


 الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبركاتہ!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس صورت میں آپ اپنی نماز جاری رکھیں کیونکہ اس کی ادائیگی ایک بنیادی فریضہ ہے اور شیطان کے وساوس سے بچنے کے لیے صبح و شام کے اذکار اور خاص طور پر شیطان سے پناہ مانگنے والے اذکار کا کثرت سے ورد کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَ‌بَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَ‌بَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرً‌ا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَ‌بَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ‌ لَنَا وَارْ‌حَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْ‌نَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِ‌ينَ‘‘ ﴿٢٨٦﴾

اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وه کرے وه اس کے لئے اور جو برائی وه کرے وه اس پر ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے رب! ہم پر وه بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما! اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)