فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12986
(187) مسجد یا مدرسہ کے لیے سفیر کا چندہ مانگنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 24 August 2014 10:42 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض اوقات میرا ذہن سفیر حضرات کے ایک  فقرہ جو کہ  تقریبا زبان زد عام ہے سے بہت الجھتا ہے۔یہ فقرہ ادا کرنے والے حضرات بعض اوقات بڑے محترم اور صاحب علم ہوتے ہیں۔مجھے حیرانگی ہوتی ہے۔اگر یہ مناسب ہے تو میں اپنی اصلاح کروں یہ فقرہ درج زیل ہے:

سفیر حضرات مسجد یا مدرسہ کے لئے چندہ کی اپیل فرماتے ہوئے کہتے ہیں:

(الف) دوستو! اللہ کا آسرا ہے یا تمہارا آسرا ہے (ماحصل)

(ب) دوستو! اللہ کا سہارا ہے اور تمہارا سہارا ہے (یعنی تمہارا بھی اور اللہ کا بھی دونوں کا سہارا ہے)

یاتو میں غلط مطلب لیتا ہوں۔ اور یا سائل حضرات غلط کہہ جاتے ہیں۔

(ج)'' یہ مدرسہ اللہ کے سہارے اور تمہارے تعاون سے چل رہا ہے(گویا کہ اللہ کے سہارے کے بعد بھی  تعاون کی ضرورت ہے۔) کیا اس طرح بہتر نہیں کہ کہا جائے:اللہ کی توفیق سے آپ کا تعاون حاصل ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سفراء کے فقرات میں اگر لفظ'' پھر'' کا اضافہ کرلیا جائے تو جائز ہے۔ورنہ ناجائز حدیث میں ہے:

ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہا تھا:

«ما شاء الله وشئت»

یعنی '' جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔''

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا:

«اجعلتني لله ندا»پھر اس کو لفظ ثم (پھر) کے ساتھ تعلیم دی:

«ما شاء الله ثم شئت»صححه الباني واحمد شاكر والطحاوي الادب المفرد (٧٨٣٩ احمد ( ٢٢٤ّ٢٨٣ شاكر) عن ابن عباس رضي الله عنه تحفه الاخيار ....مشكل آثار (٧/٥) (٤٨٥٧ الي ٤٨٦١) للطحاوي وقال : روينافي هذ الباب عن رسول الله صلي الله عليه وسلم نهيه امته ان يقولوا : ’’ ماشاء الله وشئت ’’ امره اياهم ان يقولوا مكان ذلك: ’’ ماشاء الله ثم شئت ’’ عنه وعن حذيفة وجابرين سمرة ابن ماجه (٢١١٧) الصحيحة (١٣٩) عبدا لرزاق (١٩٨١٣)

یعنی جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں۔'' نیز اللہ کی توفیق سے کہنابھی درست ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص494

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)