فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12964
(168) جمعرات کا نام پر مانگنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 August 2014 01:48 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

''سورۃ الضحیٰ'' میں ہے کہ (سائل کو نہ جھڑکیں) کچھ سائل تو گھنٹی بجاتے ہیں۔کچھ زور زور سے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔اور کچھ خاص دن جمعرات کو آتے ہیں ان میں سے کچھ کی صدا  ہوتی ہے'' جمعرات دی روٹی دا سوال اے بابا۔'' دوسرے دنوں میں کچھ کی صدا ہوتی ہے۔'' مولا علی رنگ لاوے دوارے وسدے رہن'' کچھ کی صدا ہوتی ہے''حسن وحسین دے ناں دا سوال اے پتر۔''

الغرض پورا ہفتہ اسی قسم کے گداگروں کی ریل پیل رہتی ہے ایسوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے جو ایسے طریقے سے پیٹ پالتے ہیں۔میں نے حدیث میں پڑھا ہے کہ ''تیرا کھانا پرہیز گارہی کھائے''(1) کیا ایسے لوگوں کو خیرات دینی چاہیے جواز کی صورت میں انہیں صدقۃ الفطر اور قربانی کاگوشت دیاجاسکتا ہے۔یانہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلامی آداب سے ناواقف اور غلط عقیدے کے حامل شخص کو بطریق احسن سمجھانا چاہیے۔(2)

﴿ لَعَلَّهُ يَزَّكّىٰ ﴿٣ أَو يَذَّكَّرُ‌ فَتَنفَعَهُ الذِّكر‌ىٰ ﴿٤﴾... سورة عبس

''شاید وہ پاکیزگی اختیار کرلے یا نصیحت قبول کرلے تو اسے نصیحت نفع دے۔''

عام حالات میں اچھے لوگوں کو ہی کھانا کھلانا چاہیے۔البتہ سوال کی  صورت میں وسعت ہے۔اس کے باوجود کوشش ہونی چاہیے کہ قربانی کا گوشت اور فطرانہ وغیرہ نیکو کار لوگوں کوہی دیا جائے۔


1.(لا یاکل طعامک الاتقی) صححه الحاكم والذهبي وحسنه الباني صحيح ابي داود كتاب الادب باب من يومر ان يجالس (٤٨٣٢) الترمذي(٢٥١٩)الحاكم (٤/١٢٨)المشكاة (٥-١٨)

2. اور جو سمجھانے سے باز نہ آئے ایسے غیر اللہ کے نام پر مانگنے والوں کو ہر گز نہیں دینا چاہیے۔رہا معاملہ فطرانہ (زکواۃ الفطر) کاتو یہ تو فرض ہے۔اس میں صرف کوشش نہیں کرنی چاہیے۔بلکہ دوسروں کودیناجائز ہی نہیں کہ (( توخذ من اغنيائهم وترد علي فقراءهم )) (( زكواة  مسلمان اغنیاء سے لے کر مسلمان فقراء کو دی جاتی ہے۔(صحیح البخاری کتاب الزکواۃ باب وجوب الذکاۃ  (1395) انظر (1458،1496،3448)لہذ ا سوال کرنے والا اگر عقیدہ توحید والا نہیں اور نمازی نہیں تو اسے فطرانہ نہیں دینا چاہیے خواہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ یہ خاص طور پرمسلمانوں کاحق ہے۔ہاں زکواۃ کا علاوہ ان کا تعاون کیا جاسکتا ہے۔ھذا واللہ اعلم۔(خالد بن بشیر مرجالوی عفی عنہما)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص442

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)