فتویٰ نمبر : 12927
بخاری کے راویوں کے متعلق سوال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 August 2014 01:11 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بخاری شریف امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  کی زندگی میں مکمل نہیں ہوئی۔بلکہ بعد میں ان کےشاگردوں نے اس کو مکمل کیا۔لہذا انھوں نے ہر حدیث خواہ وہ جیسی بھی ہے صحیح ہے یا ضعیف یا کسی شیعہ راوی نے  اس کو روایت کیا ہے لکھ دی کیا یہ درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے۔کہ صحیح بخاری کی تکمیل موصوف مصنف کی زندگی کے بعد ہوئی بلکہ واقعات سے یہ بات عیاں ہے کہ امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  کی وفات سے تیئس سال قبل صحیح بخاری مکمل ہوچکی تھی۔کیونکہ تاریخی طور پر یہ امر ثابت شدہ ہے کہ کتاب ہذا کو  تالیف کے بعد اما م الجرح والتعدیل یحییٰ بن معین پر پیش کیا گیا تھا اور ان کا انتقال 223 ہجری میں ہے جب کہ امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  کا سن وفات 256 ہجری ہے۔صحیح بخاری مین کسی غالی مذہبی کی  روایت نہیں۔جملہ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو۔سیر ۃ البخاری مولفہ علامہ عبدالسلام مبارک پوری۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص417

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)