فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 12912
(109) علم الادیان یا علم الابدان؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 August 2014 12:43 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

علم الادیان پہلے یا علم الابدان ؟ دلائل کی روشنی میں بیان کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

''علم الادیان'' القائی اورقدیم ہے جب کہ ''علم الابدان'' حادث اور تجرباتی شے ہے۔جس کا وجود مرور حوادث کا مرہون منت ہے۔قرآن مجید نے بسلسلہ قصہ  تخلیق انسان بیان فرمایا ہے کہ حضرت آدم  علیہ السلام  کو معرض وجود میں لانے کے بعد مبدئیا دینی تعلیم سے آراستہ کیا گیا ۔چنانچہ فرمایا: 

﴿وَعَلَّمَ ءادَمَ الأَسماءَ كُلَّها ثُمَّ عَرَ‌ضَهُم عَلَى المَلـٰئِكَةِ فَقالَ أَنبِـٔونى بِأَسماءِ هـٰؤُلاءِ إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ﴿٣١ قالوا سُبحـٰنَكَ لا عِلمَ لَنا إِلّا ما عَلَّمتَنا ۖ إِنَّكَ أَنتَ العَليمُ الحَكيمُ ﴿٣٢ قالَ يـٰـٔادَمُ أَنبِئهُم بِأَسمائِهِم ۖ فَلَمّا أَنبَأَهُم بِأَسمائِهِم قالَ أَلَم أَقُل لَكُم إِنّى أَعلَمُ غَيبَ السَّمـٰوٰتِ وَالأَر‌ضِ وَأَعلَمُ ما تُبدونَ وَما كُنتُم تَكتُمونَ ﴿٣٣﴾... سورة البقرة

''اور اس نے آدم  علیہ السلام  کو سب (چیزوں ) کے نام  سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ!  انہوں نے کہا تو  پاک ہے ۔جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے۔اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں بے شک  تو دانا(اور ) حکمت والا ہے(تب) اللہ نے( آدم  علیہ السلام کو ) حکم دیا کہ آدم ( علیہ السلام ) تم ان کو ان چیزوں کے نام بتاؤ! جب انہوں نے ان کو نام بتائے تو (فرشتوں سے) فرمایا کیوں میں نے تم سے کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی (سب) پوشیدہ باتیں جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ  کرتے ہو(سب) مجھ کو معلوم ہے۔''

اور صحیح حدیث میں وار دہے:

«فلما خلقه قال: اذهب فسلم علي اُولئك النفر وهم نفر من الملائكة جلوس فاستمع ما يحيونك فانها تحيتك وتححية ذريتك فذهب فقال:السلام عليكم فقالوا: السلام عليك وررحمة الله فقال فزادوه ورحمة الله»

یعنی'' پس جب پیدا کیا اللہ عزوجل نے آدم کو کہا؛ جا اس جماعت کو سلام کہہ اور وہ بیٹھی ہوئی فرشتوں کی جماعت تھی۔پس ان کے جواب کو سن! یہی  تحفہ ہے تیرا اور  تیری اولاد کا وہ گئے اور السلام علیکم کہا۔جواباً انہوں نے کہا:السلام علیک ورحمۃ اللہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :فرشتوں نے '' ورحمۃ اللہ '' کا اضافہ کردیا۔''

اسی طرح د وسری حدیث میں ہے:

«ان اول ما خلق الله القلم فقال له :اكتب قال: رب وماذا اكتب ؟ قال  :مقادير كل شئي حتيٰ تقوم الساعة» (رواہ ابو داؤد باب فی القدر رقم :4535)

یعنی'' سب سے پہلے شے اللہ نے قلم پیدا کی پس اسے کہا لکھ۔کہا کیا لکھوں ؟کہا تا قیامت ہرشے کی تقدیر لکھ دے۔''

ان دلائل سے معلوم ہوا کہ اصل الاصول دینی اور سماوی علم ہے اور طبی علم حادث اور اختیاری شے ہے۔جو بعد میں ضرورت کی بنا پر ایجاد ہوا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص289

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)