فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12855
(58) جنوں کا شکلیں بدلنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 August 2014 04:51 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیاجن اپنی مرضی سے اپنی شکل تبدیل کرسکتے ہیں؟تاکہ انسانوں کونظر آسکیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جنات اجسام لطیفہ سے عبارت ہیں۔ ان میں مختلف شکلیں اختیار کرنے کی قوت موجود ہے کتب احادیث میں متعدد واقعات اس بات کے موئید ہیں۔حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت  حفظ زکواۃ رمضان کے تحت فرماتے ہیں:

 وانه قد يتصور ببعض الصور فتمكن رويته وان قوله  تعاليٰ﴿ إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ﴾مخصوص بما اذ اكان علي صورته التي خلق عليها ’’ (فتح الباری 4/ 489)

''یعنی'' بعض دفعہ شیطان بعض صورتیں اختیا ر کرلیتا ہے جس سے اس کی روئیت ممکن ہوجاتی ہے اور اللہ کا فرمان کہ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سےدیکھتے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے۔یہ اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے۔ جب وہ اپنی اصلی تخلیقی حالت میں ہو۔''

اورصاحب تفسیر فتوحات الٰہیہ  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں:

’’ اي اذا كانوا علي صورهم الا صلية اما اذا تصوروا في غيرها فزاهم كما وقع كثيرا  ’’ (2/133)

چند سطور بعد فرماتے ہیں:

فاجسادهم مثل الهواء نعلمه ونتحققه ولا نراه وهذا وجه عدم رويتنا لهم ووجه رويتهم لنا كثافة اجسادنا ووجه روية بعضهم بعضا ان الله تعاليٰ قويٰ شعاع ابصارهم جدا حتي يري بعضهم بعضا ولو جعل فينا تلك القوة لرايتاهم ولكن لم يجعلها لنا ’’

ایک دفعہ معاذ بن جبل  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے شیطان کو بصورت ہاتھی دیکھا تھا اور ابی بن کعب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت میں ہے:

 فازا هو بدابة شبه الغلام المحتلم فقلت له ; اجني ام انسي ؟ قال: بل جني ’’ (فتح الباری 4/488۔489))

اور صحیح مسلم میں بصورت سانپ بھی زکر ہے۔

حاصل یہ ہے کہ جسم کثیف کی صورت میں انسان کا جن کو دیکھنا ممکن ہے لیکن بصورت جسم لطیف ناممکن ہے کما  تقدم

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص235

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)