فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12841
(44) عورتوں کے مدارس میں تبلیغی اجتماعات قائم کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 August 2014 11:12 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عورتوں کے مدارس میں جو تبلیغی اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں۔ جن میں صرف خواتین مبلغات ہی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔کچھ لوگ اس کام کو اچھا نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں۔کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کےمبارک زمانہ میں اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے دور میں خواتین ایسا نہیں کرتی  تھیں۔اور صرف مرد صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  ہی تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ خواتین کو تبلیغ کا موقع نہ ملے تو خواتین مبلغات  کتمان علم کی مجرم تو نہ ہوں گی۔اور «بلغوا عني ولو آية» کی ذمہ داری ان پر واجب ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دین حنیف کی نشرواشاعت جس طرح مرد پر واجب ہے۔اسی  طرح عورت پر بھی ضروری ہے۔کہ مختلف ذرائع سے اس فریضہ کو ادا کرے تاریخ اسلام اس بات پرشاہد ہے کہ اسلام کی اشاعت میں عورت کا ہمیشہ سے عظیم کردار رہا ہے۔در اصل یہی وہ پہلا مدرسہ ہے جہاں سے ہر فرد ابتدائی مراحل میں تعلیم وتربیت حاصل کرتا ہے جس کے اثرات تا زندگی انسان کے لئے معاون مددگار ثابت ہوتے ہیں۔پھر آغاذ وحی میں اس کی جدوجہد سے پیغام نبوت کی آبیاری ہوئی۔جو بعد میں اقوام عالم کے  لئے رشد وہدایت کا باعث بنی۔

کثرت ازواج النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  میں یہی حکمت مضمر تھی۔کہ فریضہ دعوت وتبلیغ بطریق احسن سر انجام دیا جاسکے۔بالخصوص آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کا گوشہ خانگی جس پر مطلع ہونا ہرشخص کے لئے ممکن نہیں۔

حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے علم وفضل سے کون واقف نہیں۔ کبار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  مشکل ترین مسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے۔کئی ایک مسائل میں وہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے کمزور  پہلووں پر گرفت فرماتی تھیں۔ اس سلسلہ میں علامہ زرکشی کی معروف تصنیف ''الا جابة بما استدر كته عائشة علي الصحابة’’  کے موضوع سخن سے یہ بات عیاں ہے۔پھر حضرت اسماء بنت یزید کی خطابت سے کون انکار کرسکتا ہے۔جوخطبۃ النساء کے لقب سے معروف تھیں۔(الاصابۃ 4/229)

حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  نے ''الذروالکامنۃ'' میں 70 محدثات کا تزکرہ فرمایا ہے۔ان میں سے وہ بھی تھیں جن کی شاگردی اما م احمد بن حنبل  رحمۃ اللہ علیہ  علامہ سیوطی  رحمۃ اللہ علیہ  ابو بکر الخطیب  رحمۃ اللہ علیہ  بغدادی اور مورخ ابن عساکر  رحمۃ اللہ علیہ  جیسے اجلاء نے اختیار کی ۔حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  نے انصار کی عورتوں کی تعریف غایت درجہ بیان فرمائی ہے کہ ''تفقه في الدين '' میں ان کو حیاء مانع نہیں۔ان  جملہ دلائل سے معلوم ہوا کہ مرد کی طرح عورت بھی اشاعت دین اور دعوت وتبلیغ کی مکلف ہے۔لیکن اس کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ جملہ  تحفظات کے ساتھ اس واجب کو اداکرے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص220

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)