فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12838
(41) اسلام میں مرتد کی سزا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 August 2014 10:56 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسلام میں مرتد کی سزا کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسلامی شریعت میں مرتد انسان کی سزا قتل ہے۔حضرت عبدا للہ بن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے صحیح روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کاارشادگرامی ہے:

«من بدل دينه  فاقتلوه»صحیح البخاری کتاب امتنا بة المرتدین باب حکم المرتد

یعنی'' جس نے اپنا دین تبدیل کیا اسے قتل کردو۔''

طبرانی کی ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں:

«من خالف دينه دين الاسلام فاضربوا عنقه»المعجم الکبیر (193/11) (11617) للطبرانی وقال الھیشمی فی المجمع (6/293)فیه الحکم بن ابان وھو ضعیف الکن معناہ صحیح کمافی البخاری وانظر :الارواء (2471)

 بعض  روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل سے قتل مرتد سے توبہ کے لئے بھی کہا جائے۔اگر تائب ہوجائے توفبہا ورنہ اسے قتل کردیا جائے۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو:( نیل الاوطار باب المرتد 7/1 20  تا 206)

جدید کتابوں کی بجائے اس قسم کے مسائل میں ائمہ سلف کی کتب سے براہ راست استفادہ اور راہنمائی زیادہ مفید ہے۔تاہم چند حوالے درج کردیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ر ضا کے لئے صالح عمل کی توفیق بخشے۔آمین!

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص219

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)