فتویٰ نمبر : 12797
(02) بسم اللہ کی جگہ 786 لکھنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 11 August 2014 09:39 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا بسم اللہ کی جگہ 786 لکھا جاسکتا ہے یانہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بسم اللہ کی بجائے  تحریر میں 786 لکھنا کتاب وسنت سے ثابت نہیں ہے     ۔صحیح حدیث میں ہے:

من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد(1)

یعنی'' جو دین میں اضافے کامرتکب ہو وہ مردود ہے۔''

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی جملہ کتابات ورسائل کتب احادیث میں محفوظ ہیں۔سبھی کا آغاذ بسملہ سے ہے۔یہاں تک کہ جو چٹھیاں غیر مسلم روساء وملوک کو لکھی گئیں ان کی ابتداء میں '' بسم اللہ الرحمٰن الرحیم'' سے ہے۔(2)


 

(1)صحیح البخاری کتاب الصلح باب اذا اصطلحوا علی جور فالصلح مردود (2697)

(2)صحیح البخاری کتاب الجہاد والسیر باب دعا النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  الی السلام والنبوۃ (2941) صحیح مسلم کتاب الجہاد باب کتب النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  الی ھرقل (4607)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص181

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)