فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12791
(246) ہمارے نیکو کاروں کی وجہ سے گناہ گاروں کو معاف کردے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 August 2014 03:26 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس دعا کا کیا مطلب ہے کہ ’’ہمارے نیکو کاروں کی وجہ سے گناہ گاروں کو معاف فرما دے؟‘‘


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس کا مطلب ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے یہ دعا کی جا رہی ہے کہ وہ گناہ گاروں کو نیک مسلمانوں کی وجہ سے معاف فرما دے اور اس دعا میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ نیک لوگوں کی صحبت وہم نشینی بھی ان اسباب میں سے ہے جن کی وجہ سے گناہ گاروں کو معاف کردیا جاتا ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہeﷺ نے فرمایا:

‏ مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً ‏"‏‏.‏)(صحیح البخاری الذبائح والصید باب المسک حدیث:5534وصحیح مسلم البر والصلة باب استحباب مجالسة الصالحين...حديث:2628)

’’ مایا نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے ( جس کے پاس مشک ہے اور تم اس کی محبت میں ہو ) وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا ( کم از کم ) تم اس کی عمدہ خو شبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے ( بھٹی کی آگ سے ) جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک ناگوار بدبودار دھواں پہنچے گا ۔۔‘‘

لیکن یہ جائز نہیں کہ گناہوں کے ازالے کے لیے مسلمان صرف ان امور ہی پر اکتفا کرے، بلکہ واجب یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا رہے، اپنا محاسبہ کرتا رہے، اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے دین میں لگا دے اور ان امور کو ادا کرے، جن کو اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ان سے بچے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی اور مغفرت کی امید بھی رکھے، محض اپنے آپ یا اپنے عمل پر بھروسہ نہ کرے، اسی لیے تو رسول اللہeﷺ نے فرمایا ہے:

(‏ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّهُ لاَ يُدْخِلُ أَحَدًا الْجَنَّةَ عَمَلُهُ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَلاَ، أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ وَلاَ أَنَا إِلاَّ أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ)( صحيح البخاري الرقاق باب القصد والمداومة علي العمل حديث:6467وصحيح مسلم صفات المنافقين باب لن يدخل احد الجنة بعمله حديث:2818والفط له)

’’ مایا دیکھو جو نیک کام کرو ٹھیک طور سے کرو اور حد سے نہ بڑھ جاؤ بلکہ اس کے قریب رہو ( میانہ روی اختیار کرو ) اور خوش رہو اور یاد رکھو کہ کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا ۔ صحابہ نے عرض کیا اور آپ بھی نہیں یا رسول اللہ ! فرمایا اور میں بھی نہیں ۔ سوا اس کے کہ اللہ اپنی مغفرت و رحمت کے سایہ میں مجھے ڈھانک لے۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص194

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)