فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12778
(233) اجازت کے بغیر مال لینا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 August 2014 01:46 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں کیشیئر کے طور پر ملازمت کرتا تھا۔ ایک بار مجبور ہوگیا کہ میرے پاس جو رقم ہے اس میں سے کچھ بطور قرض استعمال کرلوں اور پھر اپنی تنخواہ سے واپس کردوں مگر مالک مال کو اس کا علم ہوگیا اور اس نے کہا کہ اس مال کو واپس کردو، بغیر کسی جھگڑے کے میں نے اسے واپس کردیا لیکن اب میرا ضمیر مجھے اس پر ملامت کرتا ہے تو ضمیر کو اس ملامت سے بچانے کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی کے مال کو اس کی اجازت کے بغیر لینا خیانت ہے خواہ آپ کا ارادہ اچھا ہو اور عزم یہ ہو کہ آپ اسے اپنی تنخواہ وغیرہ میں سے واپس لوٹا دیں گے۔ اس طرح آپ اس مال کی منفعت سے اس کے مالک کو محروم بھی کر رہے ہیں جو نفع وغیرہ کی صورت میں اس سے حاصل ہونا تھی۔ یہ فعل آپ کے لیے باعث عار اور آپ کی عزت کو داغ دار کرنے والا بھی ہے۔ اب آپ نے مالک کے علم و مطالبہ پر جب مال واپس لوٹا دیا ہے اور آپ نے اس فعل پر ندامت کا اظہار بھی کیا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ یہ عزم بھی کرلیں کہ آئندہ کبھی بھی اس طرح نہیں کریں گے۔ مالک مال سے بھی معاف طلب کرلیں تاکہ اس کا دل صاف ہو جائے، نیز آپ اچھے طریقے سے توبہ کریں اور اعمال صالحہ کثرت سے بجالائیں تاکہ اس حدیث پر عمل ہوسکے:

(واتبع السئية الحسنةتمحها)(مسند احمدحدیث:5؍153 ،158 ،228 ، 236)

اللہ تعالیٰ سے امید رکھو کہ وہ آپ کی توبہ قبول کرلے گا، گناہ کو معاف فرما دے گا اور آپ کو معاصی اور منکرات سے محفوظ رکھے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص183

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)