فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12777
(232) توبہ تو کی مگر حقوق ادا نہیں کرسکتا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 August 2014 01:44 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ کسی پرظلم کیا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی۔ الخ‘ سوال یہ ہے کہ اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے کہ جس نے توبہ تو کرلی ہے مگر اپنے فقر کی وجہ سے وہ لوگوں کے حقوق واپس لوٹانے سے قاصر ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حقوق العباد کے بارے میں اصل یہ ہے کہ انہیں ادا کیا جائے۔ کیونکہ یہ محض توبہ سے ساقط نہیں ہوتے، لہٰذا انہیں حق داروں کو ادا کرنا یا ان سے معاف کروانا از بس ضروری ہے۔ جب کوئی شخص حقوق العباد کے سلسلہ میں بھی پکی سچی توبہ تو کرے، مگر فقریا حق داروں کے بارے میں عدم واقفیت کی وجہ سے انہیں ادا کرنے سے عاجز و قاصر ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لے اور حق داروں کو روز قیامت اس کی طرف سے جس طرح وہ چاہے گا خوش کردے گا۔ اگر دنیا میں اسے حقوق ادا کرنے یا انہیں معاف کروانے کی استطاعت ہو تو پھر واجب یہی ہے کہ انہیں ادا کیا جائے یا معاف کروا لیا جائے، ورنہ اس کے بغیر توبہ مکمل نہ ہوگی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَتوبوا إِلَى اللَّـهِ جَميعًا أَيُّهَ المُؤمِنونَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٣١... سورة النور

’’ ، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ ۔‘‘

نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿فَاتَّقُوا اللَّـهَ مَا استَطَعتُم...﴿١٦﴾... سورة التغابن

’’سوں جہاں تک ہوسکے تم اللہ سے ڈرو۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص182

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)