فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12775
(230) چوری سے توبہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 August 2014 01:31 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں مرحلہ ثانویہ کا ایک طالب علم ہوں۔ میں نے ابتدائی و ثانوی مرحلہ میں کچھ کتابیں اور لکھنے پڑھنے سے متعلق کچھ سامان کی چوری کی تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا فرما دی ہے، لہٰذا راہنمائی فرمائیں کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ جزاکم اللہ خیرا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نازل نہیں کی مگر اس کی دواء بھی نازل فرمائی ہے۔ چوری کی یہ بیماری جو بعض لوگوں کو بچپن یا جوانی میں ہوتی ہے، اس کی بھی دواء موجود ہے۔ اگر آپ نے کسی شخص کی چوری کی تھی تو آپ پرواجب ہے کہ آپ اس سے ملیں اور اسے بتائیں کہ اس کا اس قدر مال آپ کے پاس ہے اور پھر جس قدر مال پر صلح ہو جائے وہ اسے لوٹا دیں لیکن بسا اوقات انسان اسے بہت گراں محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک شخص کے پاس جائے اور اسے خود یہ بتائے کہ اس نے اس کی چوری کی تھی اور یہ یہ چیز لی تھی، لہٰذا اس صورت میں آپ اسے یہ مال کسی اور واسطہ سے بھی لوٹا سکتے ہیں مثلاً اس شخص کے کسی دوست یا ساتھی سے ملیں اور اسے بتا دیں کہ یہ فلاں شخص کا مال ہے، جسے میں نے چوری کرلیا تھا مگر اب میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرلی ہے، لہٰذا میری طرف سے اسے یہ دے دیں۔ اگر کوئی ایسا کرےگا تو اس کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجعَل لَهُ مَخرَ‌جًا ﴿٢﴾... سورة الطلاق

’’  اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجعَل لَهُ مِن أَمرِ‌هِ يُسرً‌ا ﴿٤﴾... سورة الطلاق

’’ اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا ۔‘‘

اگر آپ نے کسی ایسے شخص کی چوری کی ہو جس کا اب آپ کو علم نہ ہو اور نہ آپ یہ جانتے ہوں کہ وہ اس وقت کہاں ہے تو یہ معاملہ پہلے سے بھی آسان ہے، کیونکہ اس صورت میں آپ اس شخص کی طرف سے نیت کرکے اس مال کو صدقہ کردیں۔ اس صورت میں آپ بریٔ الذمہ ہو جائیں گے۔

اس سائل نے اپنا جو قصہ بیان کیا ہے، انسان کے لیے واجب ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات سے دور رہے، کیونکہ بعض اوقات وہ طیش یا بے وقوفی کی وجہ سے چوری تو کرتا ہے اور چوری کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا، لیکن جب اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دیتا ہے تو پھر اس طرح کے گناہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے خاصی دشواری پیش آتی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص181

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)