فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12772
(227) سچی توبہ سے گناہ معاف کردیتا ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 August 2014 01:20 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے دوستوں کے پاس میری کچھ تصویریں ہیں۔ میں نے ان سے وہ تصویریں طلب کیں تاکہ اللہ کے خوف کی وجہ سے انہیں پھاڑ دوں۔ ان میں سے بعض نے تو مجھے تصویریں دے دیں اور بعض نے یہ کہہ کر تصویریں دینے سے انکار کردیا کہ ان تصویروں کا گناہ ان پر ہوگا، نہ کہ مجھ پر۔ کیا ان کی یہ بات صحیح ہے، براہِ کرام راہنمائی فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سچی توبہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَتوبوا إِلَى اللَّـهِ جَميعًا أَيُّهَ المُؤمِنونَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٣١﴾... سورة النور

’’ ، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ ۔‘‘

اور نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے:

«لْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ التوبة تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَ)(صحيح  مسلم الايمان باب كون الاسلام يهدم ماقبله....حديث:121والشطر الثاني لم اجده)

’’اسلام سابقہ گناہوں  کو مٹادیا ہے اور توبہ بھی سابقہ گناہوں کو مٹادیتی ہے۔‘‘

آپ کے پاس جو تصویریں ہوں، آپ انہیں تلف کردیں، کیونکہ نبی ﷺنے فرمایا ہے:

«أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ»)(صحيح مسلم الجنائز باب الامر بتسوية القبر حديث:969)

’’ہرتصویر کو مٹادو اور ہراونچی قبر کو برابر کردو۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں بیان فرمایا ہے۔ آپ کی وہ تصویریں جو دوسرے لوگوں کے پاس ہیں اور مانگنے کے باوجود بھی انہوں نے آپ کو نہیں دیں تو آپ بریٔ الذمہ ہیں۔ توبہ ان تصویروں کو بھی شامل ہوگی اور گناہ اسے ہوگا، جس کے پاس وہ تصویریں موجود ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرمائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص180

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)