فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12771
(226) جھوٹی قسم کھائی اور پھر توبہ کرلی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 August 2014 01:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے بچپن میں جب کہ اس کی عمر پندرہ سال تھی، ہاتھ میں قرآن مجید پکڑ کر جھوٹی قسم کھائی، لیکن سن رشد کو پہنچنے کے بعد اسے اس پر ندامت ہوئی، کیونکہ اسے اب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ جھوٹی قسم کھانا شرعاً حرام تھا، تو کیا اسے گناہ ہوگا؟ کیا اس پر کفارہ لازم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ سوال در حقیقت دو سوالوں کا مجموعہ ہے۔ پہلا سوال تو ہے تاکید کے لیے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانا، تو مجھے سنت سے اس کی کوئی اصل معلوم نہیں ہے، لہٰذا یہ شرعاً درست نہیں ہے اور دوسرا مسئلہ ہے جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹی قسم کھانا، تو یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ اس سے توبہ کرنا واجب ہے حتیٰ کہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جھوٹی قسم کو عربی میں ’’ یمین غموس‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ یہ قسم، قسم اٹھانے والے کو پہلے گناہ میں اور پھر جہنم کی آگ میں ڈبو دیتی ہے۔

اگر یہ قسم بلوغت کے بعد اٹھائی گئی تو قسم اٹھانے والا گناہ گار ہوگا، اسے توبہ کرنی چاہیے۔ البتہ اس کا کفارہ نہیں ہے، کیونکہ کفارہ تو ان قسموں پر ہوتا ہے جن کا تعلق مستقبل کی اشیا سے ہو، ماضی کی اشیا میں کفارہ نہیں ہے، بلکہ ان میں تو انسان دو باتوں میں دائر ہوتا ہے کہ وہ یا تو گناہ گار ہوگا یا گناہ گار نہیں ہوگا۔ اگر وہ جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹی قسم کھا رہا ہے تو وہ گناہ گار ہوگا اور اگر اسے علم ہو یا ظن غالب یہ ہو کہ وہ سچا ہے تو پھر وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص179

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)