فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12769
(224) کیا مرتد پر توبہ کے بعد بھی حد نافذ کی جائے گی؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 August 2014 01:11 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا رجوع کرنے کے بعد بھی مرتد پر حد نافذ کی جائے گی؟ یعنی اگر مسلمان کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کرے، جو موجب ارتداد ہو اور پھر اس نے توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرلیا ہو تو کیا اس ارتداد کی وجہ سے اس پر حد نافذ کی جائے گی؟ یاد رہے کہ جس ملک میں اس نے ارتداد کا ارتکاب کیا وہاں قانون شریعت نافذ نہیں ہے۔ یا گناہ ارتداد کی معافی کے لیے توبہ ہی کافی ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں اس پر حد بھی نافذ نہیں ہوگی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص دین اسلام سے مرتد ہو جائے اور پھر رجوع کرتے ہوئے توبہ کرے اور ندامت کا اظہار کرے تو اس پر حد قائم کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ حد تو اس پر قائم کی جاتی ہے جو ارتداد پر اصرار کرے اور اس پر برقرار رہے۔ جب کہ توبہ کرنے والے کی توبہ سابقہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے، جیسا کہ کتاب و سنت کے دلائل سے ثابت ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص178

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)