فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12768
(223) خودکشی کی مگر موت سے قبل توبہ کرلی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 August 2014 01:08 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری ایک شادی شدہ بہن تھی، جس کے تین بچے بھی تھے مگر اس کا ہمیشہ اپنے شوہر سے جھگڑا رہتا تھا۔ اس کا اپنے والد کے ساتھی بھی اختلاف تھا اور اس کا سبب بھی اس کا وہی شوہر تھا، جو اس کے ساتھ بے حد ناروا سلوک کرتا تھا جس نے اسے اپنا گھر چھوڑ کر اپنی اس مطلقہ ماں کے پاس جانے پر مجبور کردیا، جس نے ایک دوسرے انسان سے شادی کرلی تھی، مگر افسوس کہ اس کی ماں کا یہ شوہر بھی اس کے ساتھ بے حد برا سلوک کرتا تھا۔

میں نے ایک فلیٹ کرایہ پر لے لیا تاکہ یہ میرے ساتھ رہے، لیکن یہ اکثر اپنی ماں کے پاس بھی جاتی رہتی تھی۔ ایک دفعہ اس کی ماں کے شوہر نے اسے مجبور کیا یہ بچوں کو اپنے شوہر کے پاس چھوڑ کر چلی آئے، ماں کی رضا کی خاطر اس نے اس طرح کیا بھی۔ ایک دن اس کا اپنی ماں کے شوہر کے ساتھ جھگڑا ہوا اور یہ بہت افسردہ ہو کر اپنے فلیٹ میں آگئی، ان مصائب اور بچوں سے دوری کا اس پر بہت اثر تھا، جس کی وجہ سے اس نے فریزر سے گولیاں نکالیں اور تمام گولیوں کو کھا لیا تاکہ خودکشی کرلے، مگر میں اسے ہسپتال لے گیا اور اس کا علاج کیا گیا۔ مگر اس نے وفات سے پہلے محسوس کیا کہ یہ اس کے آخری ایام ہیں، لہٰذا اس نے توبہ کرلی، اپنے فعل پر کثرت سے استغفار شروع کردیا اور ہم سے بھی یہ کہتی تھی کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دے… اللہ تعالیٰ کا کرنا ہوا کہ یہ بہن فوت ہوگئی، سوال یہ ہے کہ اب اس کا کیا حال ہوگا؟ کیا میں اس کی طرف سے صدقہ اور حج کرسکتا ہوں؟ یاد رہے کہ میں نے نذر مانی تھی کہ میں ساری زندگی یہ اعمال بجا لاتا رہوں گا، ان شاء اللہ!… راہنمائی فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کی مذکورہ بہن نے اگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرلی ہے اور خودکشی کا سبب اختیار کرنے پر ندامت کا اظہار کیا ہے، تو اس کے لیے مغفرت کی امید ہے، کیونکہ توبہ سابقہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ گناہ سے توبہ کرنے والا اس طرح ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں جیسا کہ نبیe کی صحیح حدیث سے یہ ثابت ہے۔ اگر آپ ان کی طرف سے صدقہ کریں یا استغفار اور دعا کریں تو یہ بھی اس کے لیے بہتر اور مفید ہوگا اور آپ کو بھی اس کا اجر و ثواب ملے گا۔

آپ نے نیکی کے جن کاموں کی نذر مانی ہے، انہیں بجا لاتے رہیں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی مدح کے ضمن میں ان لوگوں کی بھی تعریف فرمائی ہے، جو نذر کو پوراکرتے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يوفونَ بِالنَّذرِ‌ وَيَخافونَ يَومًا كانَ شَرُّ‌هُ مُستَطيرً‌ا ﴿٧﴾... سورة الدهر

’’ جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے۔‘‘

اور نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے:

( مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلاَ يَعْصِهِ ‏"‏‏.‏)(صحیح البخاری   الایمان والنذور باب فیما لایملک وفی معصية حدیث:6700)

’’  جس نے اس کی نذر مانی ہو کہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے اطاعت کرنی چاہئے لیکن جس نے اللہ کی معصیت کی نذر مانی ہو اسے نہ کرنی چاہئے ۔۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص177

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)