فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12761
(221) زانی کس طرح توبہ کرے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 August 2014 02:26 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شیطان نے مجھے گمراہ کردیا اور میں نے بدکاری کا ارتکاب کرلیا، حالانکہ مجھے علم ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے۔ اب میں توبہ کرنا چاہتا ہوں تو کیا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے گا؟ میرے دل میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ شاید میں پھر اس گناہ کا ارتکاب کروں لہٰذا پھر توبہ کرلوں گا… کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے؟ فتویٰ عطا فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

توبہ کا دروازہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے وقت تک کھلا ہے۔ جو شخص شرک یا کسی بھی گناہ سے پکی سچی توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے۔ پکی سچی (خالص) توبہ یہ ہے کہ انسان گناہوں کو ترک کردے ، پہلے جو گناہ ہوئے ہوں ان پر ندامت کا اظہار کرے اور عزم صمیم کرے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے خوف، اس کی تعظیم اور اس کے عفو و مغفرت کی امید کے پیش نظر وہ آئندہ ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کرے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا توبوا إِلَى اللَّـهِ تَوبَةً نَصوحًا...٨﴾... سورة التحريم

’’ اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو-‘‘

اور فرمایا:

﴿وَتوبوا إِلَى اللَّـهِ جَميعًا أَيُّهَ المُؤمِنونَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٣١﴾... سورة النور

’’ ، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ ۔‘‘

اور فرمایا:

﴿قُل يـٰعِبادِىَ الَّذينَ أَسرَ‌فوا عَلىٰ أَنفُسِهِم لا تَقنَطوا مِن رَ‌حمَةِ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يَغفِرُ‌ الذُّنوبَ جَميعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الغَفورُ‌ الرَّ‌حيمُ ﴿٥٣﴾... سورة الزمر

 ’’(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے۔‘‘

علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ توبہ کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اگر حقوق العباد کا مسئلہ ہو تو پھر توبہ کے صحیح ہونے کی مذکورہ بالا تین شرطوں کے علاوہ ایک چوتھی شرط بھی ہے اور وہ یہ کہ ان کے مالی حقوق وغیرہ ادا کیے جائیں یا انہیں معاف کروا لیا جائے، کیونکہ نبی اکرم e نے فرمایا ہے:

(‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لأَحَدٍ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَىْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ )(صحیح البخاری المظالم باب من کانت له مظلمه عند الرجل فحللها له هل بين مظلمه؟حديث:2429)

’’  ، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی ، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے ، نہ درہم ، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔‘‘

ہر مسلمان کے لیے یہ واجب ہے کہ وہ شرک، اس کے تمام اسباب و وسائل اور دیگر تمام گناہوں سے اجتناب کرے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ ان میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے اور پھر اسے توبہ کی توفیق ہی نہ ملے، لہٰذا ازبس ضروری ہے کہ ہر اس کام سے اجتناب کرے، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو، اپنے رب تعالیٰ سے عافیت کی دعا بھی کرتا رہے، شیطان کے ساتھ تساہل کا معاملہ نہ کرے کہ گناہوں کا اس نیت سے ارتکاب کرنے لگے کہ وہ ان سے توبہ کرے گا، کیونکہ یہ محض شیطانی دھوکہ اور اس کی طرف سے گناہوں میں مبتلا کرنے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان سے توبہ کرلے گا لیکن بندے کو بسا اوقات سزا کے طور پر توجہ ہی سے محروم کردیا جاتا ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں اسے اس وقت بے حد ندامت اور بے پناہ حسرت ہوگی کہ جب ندامت و حسرت کسی بھی کام نہ آئے گی اسی لیے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا ہے: (وایای فارھبون) (البقرۃ: ۲؍۴۰) ’’ اور مجھی سے ڈرتے رہو۔‘‘ اور فرمایا: (وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہُ) (آل عمران: ۳؍۲۸) ’’ اور اللہ تم کو اپنے نفس سے ڈراتا ہے۔‘‘ اور فرمایا:

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ إِنَّ وَعدَ اللَّـهِ حَقٌّ ۖ فَلا تَغُرَّ‌نَّكُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا ۖ وَلا يَغُرَّ‌نَّكُم بِاللَّـهِ الغَر‌ورُ‌ ﴿٥ إِنَّ الشَّيطـٰنَ لَكُم عَدُوٌّ فَاتَّخِذوهُ عَدُوًّا ۚ إِنَّما يَدعوا حِزبَهُ لِيَكونوا مِن أَصحـٰبِ السَّعيرِ‌ ﴿٦﴾... سورة الفاطر

’’ لوگو! اللہ تعالیٰ کا وعده سچا ہے تمہیں زندگانیٴ دنیا دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ دھوکے باز شیطان تمہیں غفلت میں ڈالے (5) یاد رکھو! شیطان تمہارا دشمن ہے، تم اسے دشمن جانو وه تو اپنے گروه کو صرف اس لئے ہی بلاتا ہے کہ وه سب جہنم واصل ہو جائیں ۔‘‘

(اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیات ہیں)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص175

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)