فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12753
(212) توبہ اور نیک لوگوں کی صحبت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 07 August 2014 10:00 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اکیس برس کا ایک نوجوان ہوں۔ چار سال پہلے کچھ دین دار نوجوانوں سے میرا تعارف ہوا تو ان کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی ہدایت عطا فرما دی، والحمد للہ! تقریباً ڈیڑھ سال تک میرا ان سے بھائی چارہ رہا اور اس دوران میں اسلامی اخلاق حمیدہ سے آراستہ ہوگیا۔ لیکن اس دوران میں مجھے اہل خانہ اور رشتہ داروں کی طرف سے مذاق اور طعن و تشنیع کا نشانہ بننا پڑا، تاہم میں نے ان سب باتوں کو برداشت کرلیا مگر کچھ عرصہ بعد دمیں نے ان صالح نوجوانوں کو چھوڑ دیا اور اپنی سابقہ حالت کی طرف پلٹ آیا۔ حقوق اللہ کے ادا کرنے میں سستی شروع کردی اور برے کام کرنے بھی شروع کردیے لیکن ان کبائر کے ارتکاب کرنے اور ان دینی بھائیوں سے تعلقات منقطع کرنے کی وجہ سے مجھے بے حد حسرت و ندامت ہے لہٰذا براہ کرام راہنمائی فرمائیں کہ میں ان حالات سے نکلنے کے لیے کیا راستہ اختیار کروں نیز کچھ کتابوں کی بھی راہنمائی فرمائیں، جن کا مطالعہ میرے لیے مفید ثابت ہوسکے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کے لیے واجب ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور میں توبہ کریں اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ سابقہ گناہوں پر ندامت کا اظہار کریں، ان کو ترک کردیں، ان سے اجتناب کریں اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے خوف اور اس کے ثواب کے حصول کے شوق میں یہ عزم صمیم کریں کہ آئندہ ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کریں گے۔

کثرت کے ساتھ استغفار اور اعمال صالحہ بجا لائیں، اللہ تعالیٰ نے آپ پر جن کاموں کو واجب ٹھہرایا ہے، انہیں بجا لائیں اور جنہیں حرام قرار دیا ہے، انہیں ترک کردیں، توبہ کی تکمیل کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ اگر کسی کی کوئی چیز غصب کی ہے تو اسے واپس لوٹائیں اور اگر کسی کا کوئی حق آپ پر لازم ہے تو اسے ادا کریں۔ توبہ کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَتوبوا إِلَى اللَّـهِ جَميعًا أَيُّهَ المُؤمِنونَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٣١﴾... سورة النور

’’ ، اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ ۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا توبوا إِلَى اللَّـهِ تَوبَةً نَصوحًا عَسىٰ رَ‌بُّكُم أَن يُكَفِّرَ‌ عَنكُم سَيِّـٔاتِكُم وَيُدخِلَكُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ‌...٨﴾... سورةالتحريم

’’ اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناه دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔‘‘

اور نبیﷺ نے فرمایا ہے:

«‏ مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لأَحَدٍ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَىْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ »(صحیح البخاری المظالم باب من کانت له مظلمه عند الرجل فحللها له هل بين مظلمه؟حديث:2429)

’’  ، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی ، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے ، نہ درہم ، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے ( مظلوم ) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔‘‘

اس مفہوم کی اور بھی بہت سی آیات و احادیث ہیں۔ ہم آپ کو یہ وصیت کرتے ہیں کہ نیک لوگوں کی صحبت کو اختیار کرو اور برے لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرو۔ قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کرو، خوب غور و فکر اور تدبر کے ساتھ تلاوت کرو اور اس کے مطابق عمل کرو، سب سے اشرف، سب سے عظیم اور سب سے زیادہ سچی اللہ کی کتاب ہے کہ اس پر جھوٹ کا دخل نہ آگے سے ہوسکتا ہے اور نہ پیچھے سے اور دانا اور خوبیوں والے اللہ کی اتاری ہوئی ہے، دلوں اور معاشروں کی بیماریوں کے علاج کے لیے یہ سب سے نافع اور اکمل کتاب ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿إِنَّ هـٰذَا القُر‌ءانَ يَهدى لِلَّتى هِىَ أَقوَمُ...﴿٩﴾... سورةالإسراء

’’ یقیناً یہ قرآن وه راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے۔‘‘

اور فرمایا ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ قَد جاءَتكُم مَوعِظَةٌ مِن رَ‌بِّكُم وَشِفاءٌ لِما فِى الصُّدورِ‌ وَهُدًى وَرَ‌حمَةٌ لِلمُؤمِنينَ ﴿٥٧﴾... سورة يونس

’’ اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لیے شفا ہے اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے۔‘‘

اور فرمایا:

﴿كِتـٰبٌ أَنزَلنـٰهُ إِلَيكَ مُبـٰرَ‌كٌ لِيَدَّبَّر‌وا ءايـٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ‌ أُولُوا الأَلبـٰبِ ﴿٢٩﴾... سورة ص

’’ یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔‘‘

میں آپ کو یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ اہل سنت کی کتابوں کا مطالعہ کریں مثلاً شیخ محمد بن عبدالوہابکی کتاب ’’التوحید‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی ’’ عقیدہ واسطیہ‘‘ علامہ ابن قیم کی ’’ اغاثۃ اللھفان‘‘ امام نوویکی ’’الاربعین‘‘ اور حافظ ابن رجبکی طرف سے اس کا تتمہ، شیخ عبدالغنی بن عبدالواحد مقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام‘‘ اور حافظ ابن حجر کی ’’ بلوغ المرام‘‘ کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ متوسط، ثانوی اور یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے یہ کتابیں بہت زیادہ مفید ہیں۔ پھر اس کے بعد کتب ستہ خاص طور پر ’’صحیحین‘‘ کا مطالعہ کیا جائے اور عقیدہ، حدیث اور فقہ سے متعلق اہل سنت کی دیگر کتابوں کو بھی پڑھا جائے۔

اللہ آپ کو حق پر ثابت قدم رکھے، علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص166

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)