فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 12737
(199) صحیح احادیث کا انکار
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 06 August 2014 03:04 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو شخص صحیحین میں وارد بعض صحیح احادیث مثلاً حدیث عذاب و نعیم قبر، معراج، سحر، شفاعت اور جہنم سے رہائی کا انکار کرے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے، اسے سلام کیا جاسکتا ہے یا ایسے شخص سے کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث کی روایت و درایت کا علم رکھنے والے علما ایسے شخص سے گفتگو کرکے اسے ان احادیث کی صحت اور ان کے معانی و مطالب کے بارے میں بتائیں۔ اس کے باوجود اگر وہ ان احادیث کا انکار کرے یا ان کے معانی میں تحریف کرے تاکہ وہ اپنی خواہش پر عمل کرے اور انہیں اپنی باطل رائے کے مطابق ڈھالے تو ایسا شخص فاسق ہے۔ اس کے شر سے بچنے کے لیے واجب ہے کہ اس سے علیحدگی اختیار کرلی جائے اور اس سے میل جول نہ رکھا جائے الا یہ کہ اس سے میل جول ہمدردی و خیر خواہی اور اس کی راہنمائی کے لیے ہو۔ ایسے شخص کے پیچھے نماز کا حکم وہی ہے جو ایک فاسق شخص کی اقتدا میں نماز کا حکم ہے، مگر زیادہ احتیاط اس میں ہے کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے، کیونکہ بعض اہل علم ایسے شخص کو کافر قرار دیتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص150

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)