فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12728
(180) کیا زنا سے پیدا ہونے والے پر جنت حرام ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 06 August 2014 11:37 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے سنا ہے کہ اس مفہوم کی بھی ایک حدیث ہے کہ ’’ زنا سے پیدا ہونے والے پر جنت حرام ہے‘‘ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ اگر یہ صحیح ہے تو اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے جسے اپنے ماں باپ کی غلطی اور گناہ کا سزاوار قرار دیا گیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت ابوہریرہ﷜سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

«ولد الزنا شر الثلاثة» (سنن ابی داود العتق باب فی عتق ولد الزنا حدیث:3963ومسنداحمد:311/2)

’’ولد زنا تینوںمیں سب سے زیادہ برا ہے۔‘‘

بعض علماء نے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اصل، عنصر، نسب اور مولد کے اعتبار سے تینوں میں سب سے زیادہ برا ہے کیونکہ وہ زانی مرد اور عورت کے پانی سے پیدا ہوا ہے اور یہ ناپاک اور خبیث پانی ہے اور ماں باپ کے اخلاق کا چونکہ اولاد پر اثر ہوتا ہے لہٰذا اس بات کا احتمال ہے کہ اس خباثت کا اس پر بھی اثر ہو اور یہ اسے بھی شر پر آمادہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم[سے برائی کی نفی کرتے ہوئے فرمایا:

﴿ما كانَ أَبوكِ امرَ‌أَ سَوءٍ وَما كانَت أُمُّكِ بَغِيًّا ﴿٢٨... سورةمريم

’’ نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی ۔‘‘

لیکن اس کے باوجود اپنے والدین کے گناہ کی وجہ سے اس سے مؤاخذہ نہیں ہوگا کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلا تَزِرُ‌ وازِرَ‌ةٌ وِزرَ‌ أُخر‌ىٰ...١٦٤... سورة الانعام

’’کوئی شخص دوسرے (گناہ )کا بوجھ نہیں آٹائےگا۔‘‘

بہرحال دنیا و آخرت میں زنا کا گناہ اور اس کی سزا اس کے والدین کے لیے ہے۔ ہاں اس بات کا ضرور ڈر ہے کہ اس بدکاری کا اس کے اخلاق و کردار پر بھی اثر پڑے، جس کی وجہ سے یہ بھی خباثت اور گناہ میں مبتلا ہو جائے، لیکن یہ کوئی باقاعدہ طے شدہ اصول نہیں ہے کیونکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے نیک بنا دے اور وہ عالم اور متقی و پرہیزگار بن کر تینوں میں سب سے اچھا ثابت ہوا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص142

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)