فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12713
(155) مردہ مسلمان کی ہڈی کو توڑنا زندہ کی ہڈی کو توڑنے کے برابر ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 06 August 2014 09:47 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا نبی اکرمﷺکی یہ حدیث صحیح ہے« کَسْرُ عَظْمِ الْمَیِّتِ کَکَسْرِہِ حَیًّا» مردہ مسلمان کی ہڈی کو توڑنا اس طرح ہے، جس طرح زندہ کی ہڈی کو توڑا جائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث مرفوع اور موقوف دونوں طرح ثابت ہے۔ مرفوع روایت مصنف عبدالرزاق، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں عمرہ بنت عبدالرحمن کے واسطہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا:

«كسر عظم الميت ككسره حيا» سنن ابي دواد الجنائز باب في الحفار يجد العظم هل يتنكب ذلك المكان حديث:3207وسنن ابن ماجه حديث:1616ومصنف عبدالرازاق:44/3حديث:6256وابن حبان حديث:776)

’’مردہ کی ہڈی کو توڑنا زندہ کو توڑنے کی طرح ہے ۔‘‘

امام عبدالرزاق نے اس حدیث پر باب کا عنوان یہ قائم کیا ہے کہ ( باب کسر عظم المیت) اور پھر اپنی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ہے۔ امام ابوداود نے اس پر یہ عنوان قائم کیا ہے کہ « باب فی الحفار یجد العظم ھل یتنکب ذلک المکان» ’’ قبر کھودنے والا جب ہڈی پائے تو کیا اس جگہ سے ہٹ جائے؟‘‘ اور پھر انہوں نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ امام ابن ماجہ نے اس پر یہ عنوان قائم کیا ہے کہ ( باب فی النھی عن کسر عظام المیت) ’’ مردہ کی ہڈیوں کو توڑنے کی ممانعت‘‘ اور پھر اپنی سند کے ساتھ انہوں نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ حافظ ہیثمی نے ’’موارد الظمآن الی زوائد ابن حبان‘‘ میں باب کا عنوان یہ قائم کیا ہے کہ ( باب فیمن آذی میتًا) ’’ جو شخص کسی میت کو ایذا پہنچائے‘‘ اور پھر انہوں نے اپنی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے۔

موقوف روایت کو امام مالکنے ’’ موطا‘‘ کے (باب ماجاء فی الاختفاء) میں اپنی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ مردہ مسلمان کی ہڈی کو توڑنا اسی طرح ہے جس طرح زندہ کی ہڈی کو توڑنا، یعنی آپ کی مراد یہ ہے کہ یہ عمل گناہ کے اعتبار سے ایک جیسا ہے۔(۱) مؤطا امام مالک، الجنائز، باب ماجا فی الاختفا: 238/1حدیث:44امام شافعیؓ نے اسے ( باب ما یکون بعد الدفن) میں امام مالکسے روایت کیا ہے کہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ  عنہا سے یہ روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے: ’’ مردہ مسلمان کی ہڈی کو توڑنا ایسا ہی ہے جیسے کسی زندہ مسلمان کی ہڈی کو توڑ دیا جائے۔‘‘ (۲) الام للامام الشافعی : 277/1

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص133

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)