فتاویٰ جات: طلاق
فتویٰ نمبر : 127
معلق طلاق
شروع از بتاریخ : 05 December 2011 02:29 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سوال کچھ اس طرح کا ہے کہ 5 لڑکے بیٹھے ہوئے تھے ان 5 میں سے ایک کا موبائل وہیں گم ہوجاتا ہے اس نے باقی 4 سے پوچھا لیکن کسی نے نہیں مانا۔ جب سب جانے لگے تو جس کا موبائل گم ہوا تھا اس نے یہ الفاظ کہے کہ جس نے بھی میرا موبائل اٹھایا ہے اس کی بیوی کو طلاق،سب نے کہا کہ ٹھیک ہے۔اب کیا موباءل اٹھانے والے کی بیوی کو طلاق ہو گی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

طلاق کی اس صورت کو فقہاء کی اصطلاح میں معلق طلاق کہتے ہیں یعنی وہ طلاق جو کسی چیز سے مشروط ہو جیسا کہ اس صورت میں طلاق موبائل اٹھانے کے ساتھ مشروط ہے۔ شیخ صالح المنجد معلق طلاق کے ایک مسئلہ میں لکھتے ہیں:

بیوى كو كہا اگر تم نے موبائل چيك كيا تو تمہيں طلاق

ميں نے اپنى بيوى سے كہا كہ اگر تم نے ميرا موبائل فون چيك كيا تو تمہيں طلاق، مجھے خدشہ تھا كہ بيوى ميرا موبائل فون چيك كريگى، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ اس كا حل كيا ہے ؟

آدمى كا اپنى بيوى سے كہنا: " اگر تم نے ميرا موبائل فون چيك كيا تو تمہيں طلاق " اصل ميں يہى ہے كہ اگر بيوى نے موبائل فون چيك كيا تو ايك رجعى طلاق ہو جائيگى، اور اسے اس طلاق ميں رجوع كرنے كا حق حاصل ہے۔

اس بنا پر بيوى كو موبائل فون چيك كرنے سے اجتناب كرنا چاہيے تا كہ طلاق واقع نہ ہو، اور اگر وہ موبائل فون چيك كر ليتى ہے تو ايك طلاق ہو جائيگى، اور خاوند دوران عدت بيوى سے رجوع كر سكتا ہے۔

اور بعض اہل علم كہتے ہيں كہ ،اصل مسئلہ، اگر اس سے خاوند اپنى بيوى كو موبائل فون چيك كرنے سے روكنا چاہتا تھا اور طلاق دينا مقصود نہ تھى تو يہ قسم كے حكم ميں ہوگا، اور اگر وہ موبائل فون چيك كرتى ہے تو خاوند كو قسم كا كفارہ ادا كرنا ہوگا، اور طلاق واقع نہيں ہوگى۔

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ اور اہل علم كى ايك جماعت نے يہى اختيار كيا ہے، اور راجح بھى يہى ہے۔

ہر انسان اپنى نيت كا بخوبى علم ركھتا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالى بھى اس پر مطلع ہے، چنانچہ اسے كوئى فائدہ نہيں ہو گا كہ وہ اپنے آپ كو دھوكہ ديتا ہوا يہ دعوى كرے كہ وہ طلاق نہيں دينا چاہتا جبكہ وہ اپنى كلام سے طلاق كا مقصد ركھتا تھا۔

مذکورہ بالا صورت میں موبائل اٹھانے والے کی نیت طلاق کی نہیں تھی لہٰذاشیخ الاسلام کے راجح قول کے مطابق یہ طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح برقرار ہے اگرچہ موبائل اٹھانے والا گناہ گار ضرور ہے اور اس پر توبہ واستغفار لازم ہے۔البتہ جمہور اہل علم کے نزدیک یہ ایک طلاق واقع ہوئی ہے اور دوران عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت کے بعد تجدید نکاح ہو گا۔ واللہ اعلم بالصواب

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)