فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12657
نظر بندی کی حقیقت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 23 July 2014 09:35 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نظر بندی کی کیا حقیقت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بھی جادو کی ہی ایک قسم ہے۔امام راغب ؒ اصفہانی مفردات القرآن میں لکھتے ہیں کہ سحر کی مختلف قسمیں ہیں:

ان میں سے ایک قسم محض نظر بندی اور تخیل ہوتی ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی ، جیسے بعض شعبدہ باز اپنے ہاتھ  کی چالاکی سے ایسے کام کرلیتے ہیں کہ عام لوگوں کی نظریں اس کو دیکھنے سے قاصر رہتی ہیں، یا قوّت خیالیہ مسمریزم وغیرہ کے ذریعہ کسی کے دماغ پر ایسا اثر ڈالا جائے کہ وہ ایک چیز کو آنکھوں سے دیکھتا اور اور محسوس کرتا ہے، مگر اس کی کوئی حقیقتِ واقعیہ نہیں ہوتی، کبھی یہ کام شیاطین کے اثر سے بھی ہوسکتا ہے کہ مسحور کی آنکھوں اور دماغ پر ایسا اثر ڈالا جائے جس سے وہ ایک غیر واقعی چیز کو حقیقت سمجھنے لگے، قرآن مجید میں فرعونی ساحروں کے جس سحر کا ذکر ہے وہ اسی قسم کا سحر تھا۔ جیسا کہ ارشاد ہے:(سحروا اعین النّاس)(الاعراف:116) ’’انھوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا‘‘۔ اور ارشاد ہے:( یخیّل الیہ من سحرھم انّھا تسعیٰ) (طه:66)’’ان کے سحر سے موسیٰ علیہ السّلام کے خیال میں یہ آنے لگا کہ یہ رسّیوں کے سانپ دوڑ رہے ہیں ‘‘۔

اس میں یخیّل کے لفظ سے یہ بتلا دیا گیا کہ یہ رسّیاں اور لاٹھیاں جو ساحروں نے ڈالی تھیں نہ درحقیقت سانپ بنی، اور نہ انھوں نے کوئی حرکت کی، بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی قوّت متخیّلہ متاثر ہوکر ان کو دوڑنے والے سانپ سمجھنے لگی۔(مفردات القرآن:1/400)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)