فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 12611
کشف کی حیثیت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 25 June 2014 09:15 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
وَأَمَّا " خَوَاصُّ النَّاسِ " فَقَدْ يَعْلَمُونَ عَوَاقِبَ أَقْوَامٍ بِمَا كَشَفَ اللَّهُ لَهُمْ لَكِنَّ هَذَا لَيْسَ مِمَّنْ يَجِبُ التَّصْدِيقُ الْعَامُّ بِهِ فَإِنَّ كَثِيرًا مِمَّنْ يَظُنُّ بِهِ أَنَّهُ حَصَلَ لَهُ هَذَا الْكَشْفُ يَكُونُ ظَانًّا فِي ذَلِكَ ظَنًّا لَا يُغْنِي مِنْ الْحَقِّ شَيْئًا وَأَهْلُ الْمُكَاشَفَاتِ وَالْمُخَاطَبَاتِ يُصِيبُونَ تَارَةً؛ وَيُخْطِئُونَ أُخْرَى؛ كَأَهْلِ النَّظَرِ وَالِاسْتِدْلَالِ فِي مَوَارِدِ الِاجْتِهَادِ؛ وَلِهَذَا وَجَبَ عَلَيْهِمْ جَمِيعُهُمْ أَنْ يَعْتَصِمُوا بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْ يَزِنُوا مَوَاجِيدَهُمْ وَمُشَاهَدَتَهُمْ وَآرَاءَهُمْ وَمَعْقُولَاتِهِمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ؛ وَلَا يَكْتَفُوا بِمُجَرَّدِ ذَلِكَ؛ فَإِنَّ سَيِّدَ الْمُحَدَّثِينَ وَالْمُخَاطَبِينَ الْمُلْهَمِينَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ؛ وَقَدْ كَانَتْ تَقَعُ لَهُ وَقَائِعُ فَيَرُدُّهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ صَدِيقُهُ التَّابِعُ لَهُ الْآخِذُ عَنْهُ الَّذِي هُوَ أَكْمَلُ مِنْ الْمُحَدَّثِ الَّذِي يُحَدِّثُهُ قَلْبُهُ عَنْ رَبِّهِ. وَلِهَذَا وَجَبَ عَلَى جَمِيعِ الْخَلْقِ اتِّبَاعُ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ [مجموع الفتاوى]ـ
المؤلف: تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن تيمية الحراني (المتوفى: 728هـ)
المحقق: عبد الرحمن بن محمد بن قاسم
الناشر: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف، المدينة النبوية، المملكة العربية السعودية
عام النشر: 1416هـ/1995م ۔

مذکورہ عبارت سے کيا کشف ہونا ثابت ہوتاہے؟کيا بعض لوگوں کو کشف ہوتا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

درج ذیل عبارت میں امام ابن تیمیہ نے کشف کے وجود کے اثبات کے ساتھ ساتھ اس کے غیر شرعی ہونے پر استدلال کیا ہے۔کشف کسی کو بھی ہوسکتا ہے،لیکن وہ شرعی احکام کے استنباط میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔شریعت مطہرہ کامل واکمل ہے،کسی کے کشف کی بنیاد پر اس میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی ہے۔کیونکہ کشف رحمانی بھی ہوسکتا ہے اور شیطانی بھی۔

سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ صالح المنجد ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔

اول :

آدمی کوجو کشف ہوتا ہے اس کی متعدد انواع ہیں ۔

ایک تو کشف نفسانی ہے جو کہ کافراور مسلمان کے درمیان مشترک ہے ، اوراس میں کشف رحمانی بھی ہے جو کہ وحی اور شرع کے طریقے سے ہوتا ہے ، اور اس میں سے کچھ شیطانی ہے جو کہ جنوں کے ذریعے ہوتا ہے ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :

ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ نفس کو بیداری یا نیند کی حالت میں کچھ نہ کچھ کشف ہوتا ہے جس کا سبب بدن کے ساتھ قلیل سا تعلق یاتو بطور ریاضت یا اس کے بغیر ہے ، اور یہی وہ کشف نفسانی ہے جو کشف کی انواع میں سے پہلی نوع ہے ۔

لیکن عقلی اور شرعی دلائل سے جنوں کا ثبوت ملتا ہے ، اور وہ جن لوگوں کو غائب اشیاء کی خبریں دیتے ہیں جیسا کہ بعض کاہنوں اور جن پر مرگی کے دوروں کا اثر یا پھر جنو‍ں کا سایہ ہوتا ہے ، اور ان کے علاوہ دوسروں پربھی ۔

لیکن یہاں پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کا علم ہوجائے کہ ایسے امور کا وجود پایا جاتا ہے جو کہ اس عقل سے منفصل اور علاوہ ہے جیسا کہ جن جو کہ بہت سارے کاہنوں اور نجومیوں کوخبریں دیتے ہیں ، اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا علم بالضرورۃ ہر اس شخص کو ہوتا ہے جو کہ اس سے متعلق رہا ہویا پھر اس تک خبر پہنچنے پر اسے علم ہوتا ہے ، اور ہم نے بھی اسے کئ ایک دفعہ بالاضطرار جانا ہے ، تو یہ مکاشفہ اور غیب کی خبریں مکاشفہ غیر نفسانی ہے جو کہ مکاشفہ کی دوسری نوع بنتی ہے ۔

اور تیسری قسم یہ ہے کہ : جس کی خبرفرشتے دیتے ہیں اور یہ قسم سب سے اعلی ہے جس پر بہت سے عقلی اور سمعی دلائل موجود ہیں ، توغیب شدہ اشیاء کی خبریں یا تو نفسانی اسباب اور یا پھر خبیث اور شیطانی اسباب اور غیر شیطانی اور یا پھر ملکی اسباب کی بنا پر ہوں گی ۔ الصفدیۃ ( 187- 189 ) ۔

اور ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا بیان ہے :

کشف جزئی مومن اور کافر نیک اور فاجروں کے درمیان مشترک ہے ، جیسا کہ کسی کے گھرمیں جو کچھ یا جو اس کے ہاتھ میں یا جو اس کے کپڑوں کے نیچے یا پھراس کی بیوی کا حمل مذکر و مؤنث بن جانے کے بعد اور جو کچھ دیکھنے والے سے دور رہنے والے کے حالات غائب ہیں وغیرہ کا اس کا کشف ہوتا ہے ۔

تو یہ سب کچھ بعض اوقات تو شیطان کی طرف سے اور بعض اوقات نفس کی جانب سے ہوتا ہے ،اور اسی لئے اس کا وقوع کفار سے بھی ہوتا ہے مثلا عیسائی اور اسی طرح آگ اور صلیب کے پجاری ، اور اسی طرح ابن صیاد نے بھی جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چپایا تھا اسے کشف کر دیا تھا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ ( تو کاہنوں اور نجومیوں کا بھا‏ئی ہے ) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کشف کو کاہنوں اور نجومیوں کا کشف ہی قرار دیا نہ کہ اس کی قدر کی ۔

اور اسی طرح مسیلمۃ کذاب جو کہ بہت بڑا کافر ہونے کے باوجود اپنے پیرکاروں کا مکاشفہ کیا کرتا اور انہیں یہ بتایا کرتا تھا کہ انہوں نے اپنے گھر میں کیا کیا اور اپنے گھر والوں کو کیا کہا ہے ، یہ سب کچھ اسے اس کا شیطان اسے بتایا کرتا تھا تا کہ لوگوں کو گمراہ کرے ۔

اور اسی طرح اسود عنسی اور حارث متنبی دمشقی جس نے عبدالملک بن مروان کے دور حکومت میں نبوت کا دعوی کیا اور اسی طرح کہ وہ لوگ جن کا اللہ تعالی کے علاوہ کوئ اور شمار نہیں کرسکتا ، اور ہم اور دوسروں نے بھی ان میں سے ایک جماعت کو دیکھا ،اور لوگوں نے بھی رھبانوں اور صلیب کے پجاریوں کے کشف کا مشاھدہ کیا ہے جو کہ ایک معروف بات ہے ۔

اور کشف رحمانی یہ ہے ، جس طرح کہ ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کہا کہ ان کی بیوی کو بچی حمل ہے ، اور اسی طرح عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا کشف جب کہ انہیوں نے یا ساریـۃ الجبل کہا تھا یعنی اے ساریہ پہاڑ کی طرف دھیان دو ، تو یہ اللہ رحمن کے اولیاء کے کشف میں سے ہے ۔ مدارج السالکین ( 3 / 227 - 228 )

دوم :

عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ ثابت اور صحیح ہے ، نافع بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک لشکر پر ساریہ نامی شخص کو امیر بنایا ، عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہما خطبہ جعمہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اچانک کہنے لگے " اے ساریہ پہاڑ ، اے ساریہ پہاڑ " تو انہوں نے ایسا پایا کہ جمعہ کے دن اسی وقت ساریہ نے پہاڑ کی جانب حملہ کیا تھا حالانکہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہما اور ساریہ کے درمیان ایک مہینہ کی مسافت تھی ۔

مسند احمد فضائل صحابہ ( 1/ 269 ) اور علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اسے سلسلہ الصحیحہ میں صحیح کہا ہے ( 1110 )

تویہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہما کی کرامت ہے یا تو الہام اور آواز کا پہنچنا – یہ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کی رائے ہے - یا پھر کشف نفسانی اور آواز کا پہنچنا – اس پر شیخ البانی رحمہ اللہ کی کلام آگے آئے گی – تو دونوں حالتوں میں بلا شک وشبہ یہ کرامت ہے ۔

سوم :

اور جو کچھ صوفیوں کے ساتھ ہوتا ہے وہ کشف رحمانی نہیں بلکہ یا تو وہ کشف نفسانی ہے جس میں کفار بھی شریک ہیں ، اور یا پھر شیطانی ہے اور یہی شیطانی کشف زیادہ اور غالب ہے ۔

بات یہ ہے کہ کشف رحمانی تو ان اولیاء اللہ کو حاصل ہوتا ہے جو کہ اللہ تعالی کی شریعت پر چلتے اور اس کی تعظیم کرتے ہیں ، اور صوفیوں کا حال سب کے علم میں ہے کہ وہ اس طرح نہیں ہیں ، اور جو کچھ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ واقع ہوا اگر اسے کشف کا نام دینا صحیح ہے تو وہ کشف رحمانی ہے ۔

شیخ البانی رحمہ اللہ تعالی عمربن خطاب رضی اللہ تعالی عنہما کے حادثہ کے متعلق کہتے ہیں :

اور اس میں تو کوئ شک وشبہ نہیں کہ نداۓ مذکور اللہ تعالی کی طرف سے عمر رضی اللہ تعالی کو الہام تھا ، اور اس میں کوئ تعجب کی بات نہیں کیونکہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ محدث ہيں جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے لۓ لشکر کی حالت کا کشف کیا گيا اور انہوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، تواس سے صوفیوں کا ان کے گمان کے مطابق اولیاء کے لۓ کشف پر استدلال کرنا اور دلوں میں جو کچھ ہے اس پر اطلاع پانے پر استدلال کرنا باطل بلکہ ابطل ہے ، یہ باطل کیوں نہ ہو اس لۓ کہ علم غیب اللہ تعالی کی صفات میں سے ہے اور سینہ کے بھیدوں پر بھی وہ اللہ تعالی ہی مطلع ہے ۔

مجھے معلوم نہیں کہ یہ لوگ کیسے اس زعم باطل کا شکار ہیں حالانکہ اللہ تبارک وتعالی کافرمان ہے :

{ وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ، سواۓ اس اس رسول کے جسے وہ پسند کر لے } الجن ( 26 - 27 )

تو کیا ان کا یہ اعتقاد ہے کہ یہ اولیاء اللہ تعالی کے رسول ہیں ، حتی کہ یہ کہا جاسکے کہ اللہ تعالی کے مطلع کرنے پر انہیں علم غیب کی اطلاع ہوتی ہے ؟ اے اللہ تعالی تو اس بہتان عظیم سے منزہ اور بلند ہے ۔ ۔ ۔

تو یہ قصہ ثابت اور صحیح ہے ، اور ایک ایسی کرامت ہے جس سے اللہ تعالی نے نواز کرعمر رضی اللہ تعالی عنہ کی عزت سے نوازا ، لیکن اس میں وہ چیز نہیں جس کا صوفی لوگ دعوی کرتے ہیں کہ علم غیب پر اطلاع ہے بلکہ یہ تو ( شرعی عرف کے اعتبارسے ) ایک الہام ہے ، یا پھر عصر حاظر میں ( دل میں پیدا ہونے والا ) جو کہ معصوم نہیں ، بعض اوقات تو صحیح ہوسکتا ہے جیسا کہ اس واقع میں ہے ، اور بعض اوقات یہ غلط بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ انسان پر غالب اوقات میں ہوتا ہے ۔

تو اس لۓ یہ ضروری ہے کہ ہر ولی شریعت اسلامیہ کی اپنے اقوال و افعال میں پیروی کرے ، اور اس بات سے پرہیز کرے کہ وہ شریعت کے مخالف کوئ بھی کام نہ کرے کیونکہ اس مخالفت سے وہ اس ولایت سے خارج ہوجاۓ گا جس کی صفت اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں بیان فرمائ‏ ہے :

{ یاد رکھو اللہ تعالی کے ولیوں پر نہ تو کوئ اندیشہ ہےاور نہ ہی وہ غمگین ہوتے ہیں ، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لاۓ اور ( برائیوں سے ) پرہیز کرتے ہیں } یونس ( 63 )

اور کسی نے کتنا ہی اچھا کہا ہے کہ :

جب آپ یہ دیکھیں کہ کوئ شخص ہوا میں اڑ رہا اور سمندرمیں پانی پر چل رہا ہے اور وہ شریعت کی حدود کا خیال نہیں رکھتا تو بیشک وہ فریبی دھوکہ بازاور بدعتی ہے ۔ سلسلۃ احادیث صحیحۃ ( 3 / 102 - 103 )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)