فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 12606
(92) ارشاد باری تعالیٰ ﴿وَاِذَا رَأَوْا تِجَارَۃً﴾کے معنی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 24 June 2014 11:50 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ارشاد باری تعالیٰ:

﴿وَإِذا رَ‌أَوا تِجـٰرَ‌ةً أَو لَهوًا انفَضّوا إِلَيها وَتَرَ‌كوكَ قائِمًا ۚ قُل ما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ‌ مِنَ اللَّهوِ وَمِنَ التِّجـٰرَ‌ةِ ۚ وَاللَّهُ خَيرُ‌ الرّ‌ٰ‌زِقينَ ﴿١١﴾... سورة الجمعة

’’ اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے پاس جو ہے وه کھیل اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے۔‘‘


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ آیت کریمہ حضرات صحابہ کرام کی اس خاص حالت سے متعلق نازل ہوئی ہے، جب ان کی معاشی حالت میں بہت تنگی تھی، زندگی بہت مشکل سے گزر رہی تھی کیونکہ کھانے پینے کی چیزوں کی فراوانی نہ تھی اور مال و دولت کی بے حد کمی تھی۔ ان حالات میں ایک دن رسول اللہ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آگیا۔ اس قافلہ کے سربراہ کی یہ عادت تھی کہ جب وہ آتا تو دف بجانے کا اہتمام کرتا تاکہ لوگوں کو علم ہو جائے اور وہ اس سے آکر غلہ خرید لیں۔

حضرات صحابہ نے جب دف کی آواز کو سنا تو وہ مسجد سے باہر نکل گئے کیونکہ وہ تنگی کی حالت میں تھے اور کھانے کی اشیاء کی انہیں شدید ضرورت تھی۔ وہ مسجد سے باہر نکل گئے تاکہ کھانے کے لیے اور خرید و فروخت کے لیے غلہ خرید سکیں۔ رسول اللہ اس وقت کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ بارہ اشخاص کے سوا، جن میں حضرت ابوبکر و عمربھی تھے، باقی سب لوگ مسجد سے باہر نکل گئے تو ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی:

﴿وَإِذا رَ‌أَوا تِجـٰرَ‌ةً أَو لَهوًا انفَضّوا إِلَيها وَتَرَ‌كوكَ قائِمًا ۚ قُل ما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ‌ مِنَ اللَّهوِ وَمِنَ التِّجـٰرَ‌ةِ ۚ وَاللَّهُ خَيرُ‌ الرّ‌ٰ‌زِقينَ ﴿١١﴾... سورةالجمعة

’’ اور جب کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے پاس جو ہے وه کھیل اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بہترین روزی رساں ہے۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس جو رزق اور آخرت میں جو ثواب ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ کھیل تماشے سے یہاں مراد تجارت کے لیے آنے والوں کے سامنے دف بجانا ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ﴿ اِنفَضُّوا اِلَیھَا ﴾ ’’ اس کی طرف بھاگ گئے۔‘‘ اس سے مراد صرف تجارت ہے، یہ نہیں فرمایا کہ ﴿اِنْفَضُّوْا اِلَیْھِمَا ﴾ ’’ وہ ان دونوں کی طرف بھاگ گئے۔‘‘ یعنی کھیل تماشے اور تجارت کی طرف۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرات صحابہ کرام دف کے ساتھ کھیل تماشے کے لیے مسجد سے نہیں نکلے تھے بلکہ وہ ایک جائز مقصد یعنی تجارت کے لیے نکلے تھے۔ ﴿ وَاللّٰہُ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ ﴾اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ کثرت سے رزق دیتا ہے اور اپنی کثیر تعداد مخلوق کو رزق دیتا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

(إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ)(سورۃ الذریاتآیت:58)

’’ اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی واﻻ اور زور آور ہے ۔‘‘

مگر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت ہی سے دیتا ہے اور حکمت سے ہی روکتا ہے۔ وہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو تنگ کردیتا ہے، کچھ لوگوں کو وہ رزق کی فراوانی اور وسعت سے نوازتا ہے تاکہ وہ آزمائے کہ کون شکر ادا کرتا ہے اور کون کفرانِ نعمت کی روش اختیار کرتا ہے؟ یعنی دینے یا نہ دینے میں صرف اسی کی حکمت کار فرما ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک قول یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت خطبۂ جمعہ نماز کے بعد ہوتا تھا، نماز سے پہلے نہیں ہوتا تھا۔ واللہ اعلم۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص86

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)