فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12604
(89) بستیوں کی ہلاکت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 24 June 2014 11:13 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سورۃ الاسراء میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِن مِن قَر‌يَةٍ إِلّا نَحنُ مُهلِكوها قَبلَ يَومِ القِيـٰمَةِ أَو مُعَذِّبوها عَذابًا شَديدًا ۚ كانَ ذ‌ٰلِكَ فِى الكِتـٰبِ مَسطورً‌ا ﴿٥٨﴾... سورةالإسراء

’’ جتنی بھی بستیاں ہیں ہم قیامت کے دن سے پہلے پہلے یا تو انہیں ہلاک کردینے والے ہیں یا سخت تر سزا دینے والے ہیں۔ یہ تو کتاب میں لکھا جاچکا ہے۔‘‘

کیا یہ عذاب ان بستیوں پر بھی نازل ہوتا ہے، جن کے باشندے مومن ہوں یا ان پر نازل ہوتا ہے جن کے باشندے فاسق و فاجر اور اپنے رب کے نافرمان ہوں یا اس سے کیا مقصود ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ آیت صریحاً اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بستی کے لیے عذاب کا فیصلہ فرمایا ہے اور یہ ایک یقینی خبر ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر بستی کے باشندوں سے ایسے کفر و معاصی کا ارتکاب ہوگا جو مستوجب عذاب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں فرماتا اور یہ ہر شہر و بستی کے لیے عام ہے۔ اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں اور کئی رونما ہونے والے ہیں۔ عذاب کی کئی صورتیں ہیں مثلاً بیماریاں، فقر، بھوک، دولت کی کثرت اور دشمنوں کا غلبہ وغیرہ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص85

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)