فتاویٰ جات: معاملات
فتویٰ نمبر : 126
انعامی بانڈزیا قرعہ اندازی کے ذریعے ملنے والی رقم کاحکم
شروع از بتاریخ : 05 December 2011 02:25 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 گورنمنٹ یا سٹیٹ بینک جو انعامی بانڈز جاری کرتے ہیں ان پر قرعہ اندازی کے ذریعے ملنے والے انعام کا کیا حکم ہے۔ ؟ کیا یہ سود ہے۔؟ تفصیلی جواب درکار ہے کیوں کہ احناف اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان انعامی بانڈز میں سود ، جوا ، بیع ما لا یملک ، تینوں قباحتیں شامل ہیں ۔

پاکستانی  حکومت جو یہود کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسے سود ستان بناتی چلی جارہی ہے اس رقم کو سودی و غیر سودی کارو بار میں لگاتی ہے اور اس سے حاصل ہونے والے سود کو لفظ "انعام" استعمال کر کے مختلف افراد میں تقسیم کرتی ہے۔

لہذا اس میں سود کا گند بھی شامل ہے ۔

اسی طرح جوئے کی جسطرح اور بہت سی اقسام ہیں انہی میں سے ایک قسم یہ بھی ہے کہ مختلف افراد ایک جیسی رقم ایک ہی کام پر لگائیں اور ان میں سے کسی کو منافع زیادہ حاصل ہو اور کسی کو کم یا کسی کو ملے اور کسی کو نہ ملے ، پرائزبانڈز میں یہی عمل کار فرما ہوتا ہے لہذا اس میں جوا بھی ہے ۔

اور پھر ان پرائز بانڈز کو آگے سے آگے بیچا جاتا ہے ۔ یعنی اصل زر بائع کے پاس نہیں ہوتا بلکہ اسکی رسید ہوتی ہے اور وہ اس رسید کو ہی فروخت کردیتا ہے۔

یہ بھی شریعت اسلامیہ میں ممنوعہ کام ہے ۔

ان تین بڑی بڑی قباحتوں کی بناء پر یہ بانڈز اور انکا کارو بار ناجائز و حرام ہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)