فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12598
(509) موبائل فون کیسا خریدا جائے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 24 June 2014 09:54 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بازار میں سادہ ٹون والے موبائل فون دستیاب ہیں،لیکن بعض لوگ ایسا موبائل خریدتے ہیں جس میں میوزک والی ٹون بھی ہوتی ہے،پھر اس میں کیمرہ بھی ہوتا ہے جس سے بخوبی فوٹو اتاراجاسکتا ہے،کیا ایسا فون خرید کر استعمال کرنا جائز ہے، بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوران جماعت ہی موبائل فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوجاتی ہے جس سے دوسرے نمازیوں کے خشوع  میں خلل آتاہے،اس کے متعلق قرآن و حدیث کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

موبائل فون دور حاضر کی ایک نئی ایجاد ہے جس کا فائدہ یہ ہےکہ انسان ہر وقت رابطہ میں رہتاہے ،اسے انتظار کی زحمت نہیں اٹھانا پڑتی ،لیکن اس کےفائدہ کےساتھ ساتھ منفی اثرات بہت زیادہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے متعلق فرمایا کہ ‘‘ان دونوں میں بڑاگناہ ہے اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں لیکن ان کا گناہ ان کےفائدے کےمقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ’’ (۲/البقرہ:۲۱۹)

تجربات نے ثابت کیا ہے کہ یہی معاملہ موبائل فون سےمتعلق ہے،کیونکہ اس میں فوائد بھی ہیں، لیکن جسمانی ،معاشی ،معاشرتی ،اخلاقی اور دینی نقصانات اس کےفائدے کےمقابلہ میں بہت زیادہ ہیں،جیسا کہ درج ذیل تفصیل سےواضح ہے۔

٭جسمانی نقصانات :جو ڈاکٹر دماغی رسولیوں کے ماہر ہیں ان کی رپورٹ کےمطابق موبائل  فون بکثرت استعمال کرنے سے قوت سماعت سےمتعلق عصب میں ٹیومبر رسولی ہونے کا خطرہ دوسروں کےمقابلہ میں دوگنا ہوجاتاہے،نیز ان کا تجزیہ ہے کہ سیل فون کا تابکاری اثرات کے نتیجہ میں خوردبینی جراثیم پیدا ہوجاتے ہیں جو کینسر کی ابتدا کا باعث ہیں۔ اس کے برقی مقناطیسی اثرات کے تحت دما غ کے خلیات کو نقصان پہنچتا ہے جس کے نتیجہ میں دماغ سےمتعلق ایسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جن کا علاج فی الحال ناممکن ہے، اس کے کثرت استعمال سےحافظہ کمزور، قوت فکر متاثر ہوتی ہے اور دماغ کی نشوونما بھی رک جاتی ہے۔

٭معاشی نقصانات:ہمارے ہاں موبائل فون ضرورت سے تجاوز کرکےایک فیشن کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ گھر میں جتنے افراد ہیں، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر ایک کے پاس ذاتی موبائل ہو۔ا س میں تین صد یا چھ صد روپے کا کارڈ ڈالاجاتا ہے جسے ایک ہی نشست میں فضول گپ شپ لگاتے ہوئے ختم کردیا جاتا ہے۔ جو آدمی اسے ضروریات کےبجائے فضولیات میں لے جاتاہے وہ اس کے بغیر گزارا نہیں کرسکتا، بلاوجہ اس کےذریعے مال کا ضیاع ہےجس کا کوئی معقول مصرف نہیں ہے ،شوق فضول اس  کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔

٭معاشرتی نقصانات:کیمرہ موبائل فون کے ذریعے گلی کوچوں میں جانے والی عورتوں کے فوٹو آسانی سے بنائے جاسکتے ہیں،پھر انہیں مختلف پوز میں ڈھالنے کی سہولت موبائل میں موجود ہوتی ہے۔ اس قسم کی تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرکے معاشرہ کو تباہ کیا جارہا ہے، سعودی گورنمنٹ نے اس قسم کےموبائل فون پر پابندی لگارکھی ہے، جبکہ ہماری روشن خیال حکومت اس قسم کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

٭اخلاقی نقصانات :فون میں میوزک اور موسیقی ہوتی ہے،پھر اس میں گانے بھرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے،نیز محدود پیمانے پر وڈیوفلم بنائی جاسکتی ہے ،فحش گانوں اور مخرب اخلاق فلموں سے ہماری  نسل کےاخلاق متاثر ہوتے ہیں۔اس کا احساس آیندہ چند سالوں میں ہوگا جب پانی سر سے گزرچکا ہوگا۔

٭دینی نقصانات :بعض اوقات جنازہ پڑھا جاتا ہے،اس دوران موبائل کی گھنٹی بجنا شروع ہوجاتی ہے جو گانے کی دھن پر سیٹ کی ہوتی ہے، اس سے جنازہ کا تسلسل اور وقتی خشوع بھی رخصت ہوجاتا ہے، بعض اوقات مسجد میں بھی گانوں کی دھنیں بکھرنا شروع ہوجاتی ہیں،بہرحال اس فون نے مسجد کی تقد س اور نماز کے خشوع و خضوع کو ختم کردیا ہے،اس لئے ہم موبائل فون کے مخالف نہیں ،بلکہ اس کے غلط استعمال کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے ہمیں سامان موسیقی کے متعلق آج سےچودہ سو سال قبل خبردار کیا ہے۔ آپ نے فرمایا:‘‘اس امت میں بھی دھنسنے،شکلیں بگڑنے اور پتھروں کی بارش برسنے کے واقعات ہوں گے۔’’ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہﷺ ایسا کب ہوگا؟آپ نے فرمایا:‘‘جب گلوکار عام ہوجائیں گے،آلات موسیقی رواج پاجائیں گے،شراب نوشی کی برسرعام محفلیں ہوں گی۔’’ (ترمذی ، الفتن:۲۲۱۲)

اس حدیث کی روشنی میں آلات موسیقی ،اس کے متعلق دیگر ذرائع کی حرمت اور ان کے خطرناک نتائج سے ہمیں آگاہ کیا گیا ہے ۔مساجد میں موبائل کی گھنٹیاں کھلی رکھنا جن میں موسیقی کی دھنیں ہوں اللہ کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اور ان کی نماز اللہ کے پاس صرف سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا تھی،ان سے کہا جائے گا کہ اب اپنے کفر کی پاداش میں دردناک عذاب کا مزہ چکھو۔’’ (۸/الانفال:۳۵)

واضح رہے کہ اگر موبائل فون کی گھنٹی مسجد میں آتے وقت بند نہیں کی جاسکی اور وہ دوران نماز بجنے لگے تو اسے نکال کر بند کردینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے صحیح استعمال کی توفیق دے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص501

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)