فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12596
(507) کیسٹوں کے ذریعہ سے عورتوں کی تقریر سننا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 24 June 2014 09:46 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل مارکیٹ میں بڑی فکر انگیز تقاریر پر مشتمل کیسٹیں دستیاب ہیں، کیا شرعی طورپر ان کیسٹوں کے ذریعے عورتوں کی تقاریر سن سکتے ہیں،قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ عورتوں کو غیر مردوں سےا پنی ہر چیز چھپانے کا حکم ہے،اس کی زیب و زینت کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:‘‘وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جواز خود ظاہر ہوجائے۔’’ (۲۴/النور:۳۱)

اسی طرح آواز کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:‘‘اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی ہوتو کسی نامحرم سے دبی زبان میں بات نہ کرو،ورنہ جس شخص کےدل میں روگ ہے،وہ کوئی غلط توقع لگا بیٹھے گا،لہٰذا صاف سیدھی بات کرو۔’’(۳۳/الاحزاب:۳۲)

اس آیت کریمہ کے مطابق غیر عورت کی باہمی گفتگو اور آواز پر پابندی لگائی گئی ہے اور اس حکم میں مخاطب رسول اللہﷺ کی بیویوں کو بالخصوص اس لئے کیا گیا ہے کہ ان سے بھی لوگوں کو دینی مسائل پوچھنے کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی،چنانچہ انہیں حکم دیا گیا کہ ان کی آواز شیریں اور لوچدار ہونے کے بجائے روکھی اور اسے ضرورت کی حد تک بلند ہونا چاہیے،دبی زبان میں ہرگز بات نہ کی جائے، جو اپنے اندر نرم گوشہ لئے ہوئے ہو،لوچدار اور شیریں آواز بذات خوددل کا مرض ہے،پھر اگر مخاطب کےدل میں پہلے ہی اس قسم کا روگ موجود ہوتو وہ ایسی لذیذ گفتگو سے کئی غلط قسم کے خیالات اور تصورات دل میں جمانا شروع کردےگا۔ عورت کی آواز پر اصل پابندی یہ ہےکہ ضرورت کےبغیر غیر محرم مرد اس کی آواز نہ سننے پائیں،نیز اس کی آواز میں نرمی ،بانکپن اور شیریں پن نہیں ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہےکہ عورت اذان نہیں کہہ سکتی مردوں کی جماعت نہیں کراسکتی ،نماز باجماعت میں اگر امام بھول جائے تو زبان سے ‘‘سبحان اللہ’’ نہیں کہہ سکتی اور نہ اسے لقمہ دے سکتی ہے، بلکہ ایسے حالات میں اس کے لئے حکم ہے کہ اپنے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ مارکر آواز پیدا کرنے سےامام کو متنبہ کرے، جیسا کہ احادیث میں اس کےمتعلق مفصل ہدایات موجود ہیں۔ لیکن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک ایسا فریضہ ہے جو صرف مردوں کےساتھ ہی خاص نہیں بلکہ عورتیں بھی اسے ادا کرنے میں مردوں کے ساتھ شریک ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابیات مبشرات ؓ نےشریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس فریضہ کو ادا فرمایا،چنانچہ حدیث میں بیان ہے کہ نماز فجر کےبعدکچھ لوگوں نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر مجلس وعظ میں بیٹھ گئے،جب طلوع آفتاب کا وقت ہوا تو طواف کی دورکعت پڑھنا شروع کردیں تو حضرت عائشہؓ نے ان پر بایں الفاظ بیان فرمایا کہ ‘‘طواف کے بعد بیٹھے رہے اور جب وہ وقت آپہنچا جس میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے تو اٹھ کر نماز شروع کردی۔’’ (صحیح بخاری،الحج:۱۶۲۸)

اسی طرح معرکہ یرموک میں رومیوں کےمقابلہ میں بعض مسلمانوں نے پسپائی اختیار کی تو مسلمان خواتین نے انہیں شرم دلائی اور معرکہ کارراز میں واپس پلٹنے کی تلقین کی۔ (البدایہ والنہایہ ،ص:۱۳،ج۷)

حفصہ بنت سیرین نے دینی وابستگی اور حمیت اسلامی کےبارےمیں  ایک مرتبہ فرمایا تھا‘‘اے نوجوانو!زمانہ جوانی میں اپنی جانوں سے فائدہ حاصل کرو میں نے جوانی کےعمل جیسا بہترین عمل کسی اور زمانے میں نہیں دیکھا ہے۔’’ (صفۃ الصفوۃ ،ص:۵۰۷،ج۴)

الغرض کتب حدیث میں بےشمار واقعات ایسے ہیں جن سےمعلوم ہوتا ہے کہ خواتین اسلام نےعام لوگوں اور اپنےعزیزواقارب علما ،طلبہ اور حکمرانوں کا وعظ و ارشاد کے ذریعے احتساب فرمایا۔ اس بنا پر مردوں کو عورتوں کی تقاریر پر مشتمل کیسٹ سننے میں

کے باوجود درگزر کرتےہوئے خیروبرکت کے جذبے سے ‘‘اربعین’’کو تالیف کیا ہے۔ان میں کچھ اصول دین سے متعلق ہیں اور متعدد اربعین کا تعلق فروغ اسلام سے ہے۔ (العلل المتناہیہ،ص:۱۲۱،ج۱)

خود علامہ ابن جوزیؒ نے بندگان الہٰی کے اخلاق و کردار سےمتعلق احادیث پر مشتمل ‘‘اربعین’’تالیف کی ہے،لیکن زیادہ شہرت اور قبولیت علامہ نووی کی ‘‘اربعین ’’ کو حاصل ہے۔ ہمیں اس بات پر تعجب ہے کہ  جب ایک حدیث سرےسےہی ثابت نہیں ،پھر اسے بنیاد بناکر احادیث جمع کرنا چہ معنی دارد؟اگر خیروبرکت اور خدمت دین کا جذبہ پیش نظر ہے تو چالیس  کی تعداد پر انحصار کرنا کس بنا پر ہے۔ بہرحال چالیس احادیث کو یاد کرنے ،لکھنے اور لوگوں تک پہنچانے کے متعلق جتنی بھی احادیث بیان ہوئی ہیں وہ محدثین کےقائم کردہ معیار صحت پرپوری نہیں اترتیں بلکہ ان کا ضعف اس قدر شدید ہے کہ کثرت طرق سے بھی اس کی تلافی  نہیں ہوسکتی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص497

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)