فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12590
(501) ڈاڑھی کی لمبائی کی حد
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 23 June 2014 11:53 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص کی داڑھی اتنی طویل ہے کہ ناف کے نیچے  تک ہے اور گھنی اتنی کہ رخسار بھی نظر نہیں آتے ۔ ایسی صورت حال  کے پیش نظر داڑھی کو رخساروں سے صاف کرنا اور ناف کے نیچے  سے کاٹ دینا درست ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

داڑھی کے متعلق ہمارا موقف یہ ہے کہ اسے اپنی حالت پر رہنے دیا جائے اور اس کے ساتھ کسی طرف سے بھی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے۔کیونکہ

(۱)اس کے متعلق امر نبوی ہے کہ رسول اللہﷺ کا امروجوب کےلئے ہے اِلّا یہ کہ قرینہ صارفہ ہو۔

(۲)اس سے چھیڑ چھاڑ کرنا یہودی و نصاریٰ اور مشرکین و مجوس سےہمنوائی ہے جبکہ ہمیں ان کی اس سلسلہ میں مخالفت کرنے کا حکم ہے۔

(۳)اس کی کانٹ چھانٹ تخلیق الٰہیہ میں تبدیلی کرنا ہے جس سے ہمیں منع کیا گیا ہے کیونکہ ایسا کرنا ایک شیطانی حربہ ہے۔(۴/النساء:۱۱۹)

(۴)داڑھی کا بڑھانا امور فطرت ہے ، اس لئے داڑھی کو فطرتی حالت میں رہنے دیا جائے اور اس کے غیر فطرتی عمل کو نہ کیا جائے۔

(۵)ہمیں نسوانی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے جبکہ داڑھی منڈوانے سے عورتوں سےمشابہت ہوتی ہے۔ اس سے محفوظ رہنے کا یہی طریقہ ہے کہ اسے اپنی حالت پر رہنے دیا جائے۔

(۶)خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے فرمان کے مطابق داڑھی منڈوانا ‘‘مثلہ’’ کےمترادف ہے اور اس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔

(۷)داڑھی منڈوانا ایسا قبیح فعل ہے کہ رسو ل اللہﷺ نے اس کے مرتکب دو ایرانی باشندوں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی  گوارا نہیں کیا تھا۔

صورت مسئولہ میں بعض اہل علم بایں طور پر نرم گوشہ رکھتے ہیں کہ

(۱)داڑھی کے متعلق مندرجہ ذیل تین صحابہ  کرامؓ سے امر نبوی منقول ہے۔حضرت ابن عمرؓ (صحیح بخاری ، اللباس:۵۸۹۲)حضرت ابوہریرہؓ (صحیح مسسلم ،الطہارۃ:۶۰۳)حضرت ابن عباسؓ (مجمع الزوائد ص:۱۶۹،ج ۵)

جبکہ یہ تینوں اکابر کے متعلق روایات میں ہےکہ بالعموم یا خاص مواقع پر ایک مشت سے زائد داڑھی اور رخساروں کے بال کٹوا دیتے تھے۔ (حضرت ابن عمرؓ صحیح بخاری:۵۹۲ حضرت ابوہریرہ ؓ طبقات ابن سعد،ص:۳۳۴،ج ۴،حضرت ابن عباسؓ،مصنف ابن ابی شیبہ،ص:۸۵،ج ۴)

اگرچہ ہمارے نزدیک قابل عمل راوی کی روایت نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کی روایت ہے۔

(۲)امام مالک ؒ سے سوال ہوا کہ آدمی کی داڑھی بہت زیادہ طویل ہوجائے تو کیا کرے؟آپ ؒ نے فتویٰ دیا کہ ایسی حالت میں اسے اعتدال پر لانے کے لئے کاٹا جاسکتا ہے۔ (باجی شرح مؤطا ،ص:۲۲۶،ج ۷)

(۳)حافظ ابن حجر ؒنے امام طبری کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اگر آدمی اپنی داڑھی کو اپنی حالت پر چھوڑدے اور اس کا طول وعرض اس حد تک بڑھ جائے کہ لوگوں کے ہاں ‘‘اضحوکہ روزگار’’بن جائے تو ایسی حالت میں اسے کاٹا جاسکتا ہے۔ (فتح الباری،ص:۴۳۰ج ۱۰)

(۴)حضرت عمرؓ کے متعلق روایات میں ہےکہ ان کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس کی داڑحی حد سے بڑھی ہوئی تھی تو آپؓ نے معقول حد کے نیچے سے اسے کاٹ دیا تھا۔ حافظ ابن حجرؒ نے طبری کے حوالہ سے بیان کیا ہے۔ (واللہ اعلم )

اگر کوئی اس قسم کے دلائل سے مطمئن ہوتو مذکورہ شخص کے متعلق نرم گوشہ رکھنے میں چنداں حرج نہیں ہے۔ بصورت دیگر اسے استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تا کہ سنت کی حفاظت پر اللہ کے ہاں بے پایاں اجروثواب کی امید کی جاسکے۔ہم نے ایسے بزرگ بھی دیکھے ہیں کہ دوران نماز جب رکوع کرتے تھے تو ان کی داڑھی زمین پر آلگی تھی۔اب وہ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ہاں کروٹ کروٹ رحمت سے نوازے۔ آمین

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص488

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)