فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12589
(500) چند مختلف سوالات
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 23 June 2014 11:44 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

٭رسول اللہﷺموت کی خبر سنانے سے منع کرتے تھے کیا فوتگی کا اعلان کرنا درست ہے؟

٭اگر عورت کے چہرے پر مونچھیں اگ آئیں تو کیا انہیں صاف کیا جاسکتا ہے؟

٭کیا بچوں یا بڑوں کو برہنہ دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتاہے؟

٭عشاءکی نماز کے بعد دونفل ادا کیے جاسکتے ہیں؟

٭اگر زکوٰۃ کی مدت رمضان المبارک سے پہلے پوری ہوجائے تو کیا اسے رمضان المبارک میں ادا کرنے کےلئے روکا جاسکتا ہے تا کہ ثواب زیادہ ہو؟

٭سوال درج کرنے سے حیا مانع ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

٭دور جاہلیت میں رواج تھا کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے گلی کوچوں میں ڈھنڈورا  پیٹا جاتا تھا۔رسو ل اللہﷺ نے اس قسم کے اعلانات سے منع فرمایا ہے۔ (مسند امام احمد،ص:۴۰۶،ج ۵)

البتہ مسجد میں سادگی کےساتھ فوتگی کی اطلاع اور نمازجنازہ کا اعلا ن کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہﷺ نے حبشہ کے سربراہ  حضرت نجاشی کے فوت ہونے کی اطلاع اور اس کے جنازہ کا اعلان فرمایا تھا۔ (مسند امام احمد ،ص:۲۴۱،ج ۲)

٭مردزن کے بال تین طرح کے ہوتے ہیں:

(۱)جن کے زائل کرنے سےشریعت نے منع فرمایا ہے،مثلاً:مرد کی داڑھی اور مردوزن کے ابروؤں کے بال، انہیں زائل کرنا حرام اور ناجائز ہے۔

(۲)جن کا زائل کرنا شریعت میں مطلوب و پسندیدہ ہے،مثلاً:مردوزن کے موئے بغل و زیر ناف اور مرد کی مونچھیں وغیرہ شریعت نے حکم دیا ہے کہ انہیں زائل کیا جائے۔

(۳)جن کے زائل یا باقی رکھنے کےمتعلق شریعت نے سکوت اختیار فرمایا ہے،مثلاً عورت کی داڑھی اور اس کی مونچھیں وغیرہ ان بالوں کے متعلق شریعت نے کوئی حکم نہیں دیا ہے،بلکہ انسان کے اپنے اختیار پر موقوف رکھا ہے، ایسی چیزوں کےمتعلق شریعت کا قاعدہ ہے کہ وہ قابل معافی ہیں۔ا ن کا عمل میں لانا ،نہ لانا دونوں برابر ہیں۔ (ابوداؤد،الاطعمہ:۳۸۰۰)

اب ان کےمتعلق وجہ ترجیح تلاش کرناہوگی وہ یہ ہے کہ عورت کی داڑھی اور مونچھوں کے بال اس کے قدرتی نسوانی حسن میں باعث رکاوٹ ہیں، پھر عورت کی خلقت اور جبلت کےبھی خلاف ہیں۔ لہٰذا ان زائد بالوں کا زائل کرنا ہی شریعت میں مطلوب ہے۔(واللہ اعلم )

٭شریعت نے نواقض وضو کی تعیین کردی ہے کسی کو برہنہ دیکھنا نواقض وضوسے نہیں ہے۔شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس لئے جو خواتین مدت رضاعت کے بعد بچوں کو نہلاتی ہیں اگر صابن وغیرہ استعمال کرتے وقت ان کا ہاتھ شرمگاہ کو لگ جائے تو انہیں نماز کے لئے نیا وضو کرناہوگا۔

٭عشاءکی نماز کے بعد دو سنت پڑھنے کا احادیث میں ذکر آیا ہے۔ دو نفل ادا کرنے کی صراحت کسی حدیث میں بیان نہیں ہے،ہاں،وتر کے بعد دو رکعات ادا کرنے کا حکم اور رسول اللہﷺ کا عمل مبارک ملتا ہے۔ وہ بھی ہمیں کھڑے ہوکرادا کرنے چاہیں،انہیں بیٹھ کر ادا کرنا سنت نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ کا انہیں بیٹھ کر ادا کرنا آپ کا خاصہ ہے۔ اس کی تفصیل گزشتہ کسی فتوی میں دیکھی جاسکتی ہے۔

٭اگر مال ،نصاب زکوٰۃ کو پہنچ جائے اور وہ ضروریات سےفاضل ہوا ور اس پر سال گزر جائے تو اس میں زکوٰۃ واجب ہے۔ اگر کوئی زکوٰۃ کا مستحق ضرورت مند ہے تو فوراً ادا کرنا چاہیے۔ امید ہے کہ ثواب میں کمی نہیں آئے گی۔ ہاں،ا گر کوئی ضرورت مند وقتی طور پر سامنے نہیں ہے تو ثواب میں اضافہ کےپیش نظر اسے رمضان تک مؤخر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم بہتر ہے کہ جب بھی زکوٰۃ واجب ہوتو فوراً اس سےعہدہ برآہوجائے کیونکہ زندگی اور موت کےمتعلق کسی کو علم نہیں ہے وہ اللہ کے اختیار میں ہے۔اگر زکوٰۃ دیئے بغیر اللہ کا پیغام اجل آگیا تو اخروی بازپرس کا اندیشہ ہے۔

٭خاوند کو فطر  ت و شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی بیوی سے تمتع کرنے کی اجازت ہے۔ سوال میں ذکر کردہ صورت اگرچہ شریعت کے خلاف نہیں ہے، تاہم فطرت سے متصادم ضرور ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص486

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)