فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12588
(499) ایک طالبہ کے دینی جذبات
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 23 June 2014 11:00 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ادارہ ‘‘اہل حدیث’’ کی معرفت کالج کی ایک طالبہ کا خط موصول ہوا ہے جس میں اپنے دینی جذبات کا بایں الفاظ اظہار کیا گیا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کا بہت شوق ہے لیکن صنف نازک ہونے کی وجہ سے اس سعادت کو حاصل نہیں کرسکتی ،نیز میرے والد گرامی جہاں میرا رشتہ کرنا چاہتے ہیں وہاں دینی لحاظ سے مطمئن نہیں ہوں،اس ذہنی الجھن سے نجات حاصل کرنے کےلئے مجھے کیا کرنا چاہیے۔ کتا ب و سنت کی روشنی میں میری راہنمائی فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اعزاز ہے، بلکہ شہادت کی تمنا کرنا ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ خود رسو ل اللہﷺ نے اس سعادت کو حاصل کرنے کےلئے بایں الفاظ اپنی خواہش کا اظہار فرمایا:‘‘قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل ہوجاؤں،پھر مجھے زندگی مل جائے ،پھر اللہ کی راہ میں کٹ جاؤں،پھر زندہ کیاجاؤں، پھر اللہ کی راہ میں شہید ہوجاؤں، پھر مجھے زندگی دی جائے،پھر اللہ کے راستہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں۔’’ (صحیح بخاری،الجہاد:۲۷۹۷)

عورتوں کے لئے جہاد میں شرکت کےلئے کئی ایک مواقع ہیں  ، لیکن ان کا شریک ہونا ضروری نہیں ہے ۔ حضرت عائشہؓ نے رسو ل اللہﷺ سے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ ‘‘ تمہارا جہاد بیت اللہ کا حج کرنا ہے۔’’(صحیح بخاری ،الجہاد:۲۸۷۵)

اللہ کے دین میں عورتوں کے اس جہاد‘‘حج بیت اللہ’’ کی اس قدر اہمیت ہے کہ ایک آدمی جس نے غزوہ میں شرکت کےلئے نام لکھوا رکھا تھا، اسے واپس کردیا گیا کیونکہ اس کی عورت حج کرنا چاہتی تھی۔ (صحیح بخاری ،الحج:۱۸۶۲)

اس پر فتن دور میں عورتوں کو چاہیے کہ گھرمیں چاردیواری میں رہتےہوئے ،فرائض و واجبات کی پابندی کریں۔ چادر اورچار دیواری کا تحفظ ہی ان کےلئے جنت کی ضمانت ہے۔کتب احادیث میں شہادت کی کئی ایک صورتیں بیان کی گئی  ہیں۔اگر نیت خالص،ایمان کامل اور یقین صادق ہے تو اللہ تعالیٰ شہادت کا شوق رکھنے والی عورتوں کو اس سعادت سے محروم نہیں کرے گا۔ا ب ہم سوال میں پیش کردہ ذہنی الجھن کا حل پیش کرتے ہیں۔

رشتہ ازواج دنیا کا بہت حساس اور انتہائی قیمتی بندھن ہے، اس لئے اس کے ہر نازک پہلو پر سنجیدگی  کے ساتھ غوروفکر کرکے سرانجام دینا چاہیے۔ اسے عام حالات میں ایک بار ہی ادا کیا جاتا ہے۔ بجلی کے بلب کی طرح نہیں ہے، کہ جب جی چاہے اتار کر دوسرا لگادیا جائے۔رسو ل اللہﷺ نے اس سلسلہ میں جو راہنما اصول متعین فرمائے ہیں،اگر انہیں پیش نظر رکھا جائے تو کبھی ناکامی اور خسارے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ہمارے ہاں عام طورپر نکاح کے لئے مال و متاع ،حسن و جمال، حسب و نسب کو دیکھا جاتا ہے،جبکہ شریعت کی نظر میں یہ چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس سلسلہ میں اولیت اور ترجیح دین و اخلاق کو حاصل ہے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ‘‘نکاح کے لئے عورت کی چار چیزوں و دیکھا جاتا ہے ،یعنی اس کا مال ،خوبصورتی ،خاندانی حسب ونسب اور اسلامی اقدار وغیرہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ دین داری کو ترجیح دےکر کامیابی حاصل کرے۔ ’’ (صحیح بخاری، النکاح:۵۰۹۰)

جو لوگ دین کو نظر انداز کرکے دیگر معیار زندگی دیکھتے ہیں ،وہ جلد ہی اس کے بھیانک انجام سے دوچار ہوجاتے ہیں کیونکہ ‘‘بلند معیار’’کی تلا ش میں بیٹوں کو اپنے گھر کی دہلیز پر بوڑھا کردیا جاتا ہے۔ اس کےبعد فتنہ و فساد کے علاوہ کیا مل سکتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

‘‘جب تمہارے اس دین و اخلاق کا حامل رشتہ آئے تو نکاح کردو،بصورت دیگر فتنہ اور بہت بڑا فساد ہوگا۔’’(ترمذی،النکاح:۱۰۸۵)

نکاح کے سلسلہ میں نہ تو والد کو کلی اختیارات ہیں کہ وہ جہاں چاہے اپنی بیٹی کو اعتماد میں لئے بغیر اس کا نکاح کردے اور نہ ہی عورت مطلق العنان ہے ، کہ وہ اپنی مرضی سے جس سے چاہے نکاح کرلے بلکہ جہاں سرپرست کو یہ اختیار دیاگیا ہے کہ اس کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ،وہاں اسے پابند بھی کیا گیا ہے کہ نکاح سے پہلے وہ بیٹی یا بہن کو اعتماد میں لے۔ امام بخاری ؒ جو امیر المؤمنین فی الحدیث ہیں اور ان کی مصالح عباد پر بڑی گہری نظر ہوتی ہے۔اس  کےساتھ ساتھ وہ استدلال میں نصوص کا پہلو بھی انتہائی مضبوط رکھتےہیں۔نکاح کے سلسلہ میں انہوں نے بہت متوازن راہنمائی کی ہے۔ وہ سوال میں ذکر کردہ ذہنی الجھن کے حل کے لئے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کرتے ہیں‘‘جس شخص کا یہ موقف ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔’’اس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کے سلسلہ میں ولی سرپرست کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،پھر ایک دوسراعنوان قائم کرتے ہیں کہ ‘‘ کوئی باپ یا کوئی دوسرا رشتہ دار کسی کنواری یا شوہر دیدہ کانکاح اس کی رضا کے بغیر نہ کرے۔ ’’ ان ابواب کا تقاضاہے کہ نہ تو کھلی آزادی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے شادی رچالےاور نہ ہی وہ اس قدر مقہور و مجبور ہے کہ اس کا سرپرست جہاں چاہے جس سےچاہے اس کا عقد کردے بلکہ امام بخاریؒ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک تیسرا عنوان بیان کرتے ہیں ‘‘اگر کسی نے اپنی بیٹی یا بہن کی مرضی کے بغیر نکاح کردیا تو یہ نکاح مردود ہے۔’’

درحقیقت شریعت اعتدال کوقائم رکھنا چاہتی ہے نہ تو سرپرست کو اتنے وسیع اختیارات حاصل ہیں کہ وہ اپنی بیٹی یا بہن کی مرضی کے بغیر جہاں چاہے جس سے چاہے نکاح کردے۔ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں ایک نکاح ایسا ہوا تو آپ نےبچی کی صوابدید پر موقوف رکھا کہ اگر وہ چاہے تو اسے مسترد کردے۔ (صحیح بخاری ،النکاح:۵۱۳۸)

اور نہ ہی عورت کو اس قدر کھلی آزادی دی گئی ہے کہ وہ خود سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح کرکے اپنے خاندان کی عزت و آبرو کو خاک میں ملادے۔ ہاں اگر باپ یا دوسرے سرپرست کےمتعلق باوثوق ذرائع سے پتہ چل جائے کہ وہ اپنے زیر سرپرست  کے لئے مہر  ووفا کے جذبات سے عاری ہے یا وہ دینی و دنیوی مفادات کا محافظ نہیں ہے تووہ خود بخود حق ولایت سےمحروم ہوجاتا ہے ۔ حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے،چنانچہ بعض روایات میں ولی مرشد کے الفاظ ملتے ہیں۔ (بیہقی ،ص:۱۲۴۔ج ۷)

اس صورت میں حق ولایت خود بخود دوسرے قریبی رشتہ دار کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اگر تمام سرپرست کسی غلط جگہ پر نکاح کرنے کےلئے اتفاق کرلیں(اگرچہ ایسا بہت کم ہوتا ہے)تو گاؤں یا شہر کے سرکردہ اور شریف الطبع لوگوں کی سرپرستی میں نکاح کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ صورت بھی ناممکن ہوتو بالآخر عدالتی چارہ جوئی میں کوئی قباحت نہیں ۔ اگر عدالت دیانتداری کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچے کہ تمام سرپرست نکاح کےلئے کسی غلط کار کا انتخاب کئے ہوئے ہیں تو جج کی سرپرستی میں نکاح کیا جاسکتا ہے،لیکن اگر باپ یا کوئی دوسرا سرپرست صحیح جگہ پر نکاح کرنا چاہتا ہے لیکن وہاں لڑکی آمادہ نہیں یا اپنی کسی غلط کاری کی وجہ سےکسی ایسی جگہ رشتہ کرناچاہتی ہے جو خاندان کےلئے باعث ننگ و عار ہے یا اپنے آشنا کے ساتھ بھا گ کر عدالتی چھتری کے نیچے نکاح کرلیتی ہے تو ایسے حالات میں عدالتی نکاح صحیح نہیں ہوگا۔اس سلسلہ میں ہمارا عزیزہ کو یہی مشور ہ ہے کہ وہ چادر اور چاردیواری کا تحفظ کرتے ہوئے اپنے والد کو کتاب و سنت کے دلائل سے آمادہ کرے کہ نکاح کےمتعلق دینی و اخلاقی اقدار کو اولیت حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں ازخود کسی رشتہ کی نشاندہی کرنے کےبجائے یہ انتخاب والدین کی صوابدید پر چھوڑدیا جائے۔ اس کےساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی مضبوط تعلق قائم  کیا جائے اور دعا کرتی رہے کہ وہ اسے دینی لحاظ سے بہترین رفیق حیات  عطافرمائے۔(واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص484

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)