فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12587
(498) ہیجڑا کے شرعی احکام
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 23 June 2014 10:45 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں پیدائشی طورپر ایک ہیجڑا ہوں۔میری شکل و صورت ،چال ڈھال اور جسمانی ساخت و پروخت انتہائی طورپر لڑکیوں سے مشابہہ ہے میرا نام لڑکیوں والا اور لباس بھی لڑکیوں والا پہنتا ہوں۔ میرے سر کے بال لڑکیوں کی طرح لمبے اور خوبصورت ہیں۔ ایک آواز ہے جو لڑکیوں سے قدرے بھاری ہے۔ مجھے دیکھنے والا لڑکی ہی خیال کرتا ہے۔میرے ساتھ یہ حادثہ ہوا کہ میرا گرو عدالتی کاروائی کے ذریعے مجھے میرے والدین سے چھین کر لے آیا تھا۔ میں بچپن سے اب تک گرو کی صحبت میں اور اسی کی زیر تربیت رہاہوں، اس لئے ناچ گانے کا پیشہ اپنانا ایک فطرتی بات تھی، تاہم میں شروع  ہی سے اس کار بد کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا تھا،اب جبکہ میرا گرو مرچکا ہے اور میں آزاد ہوں ۔ میری عمر تیس بتیس سال کے قریب ہے ، لیکن میں اپنے گرو کے مکان میں دوسرے ہیجڑے ساتھیوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ مجھے اس پیشہ سے جنون کی حد تک نفرت ہوچکی ہے، میں نے عزم کر لیا ہے کہ میں اس پیشہ اور ہیجڑوں سے کنارہ کش ہوجاؤں اور اپنی توبہ کا آغاز حج بیت اللہ کی سعاد ت سے کرنا چاہتا ہوں۔ میری الجھن یہ  ہے کہ میں مردوں کی طرح حج کروں یا عورتوں کی طرح ۔کتاب وسنت کے مطابق میری الجھن حل کریں مجھے اس بات کا علم ہے کہ اگر میں مردوں  کی طرح حج کروں تو مجھے احرام باندھنا ہوگا اور مجھے بدن کا کچھ حصہ ننگا رکھنا ہوگا،اس کے علاوہ سر کے بال بھی منڈوانا ہوں گے، لیکن سچی بات ہے کہ میرے لئے یہ امر بہت مشکل ہوگا۔ جس سے مجھے خوف آتا ہے بلکہ تصور کرکے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔جبکہ عورتوں کی طرح حج کرنے میں مجھے آسانی ہی آسانی ہے، کیونکہ میں نے اب تک عمر کا تمام حصہ عورتوں کی طرح گزاراہے اور جنسی طورپر مردانہ خواہش کبھی بھی میرے دل میں نہیں ابھری، بعض علماسے دریافت کرنے سے الجھن  کا شکار ہوچکا ہوں کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں، مجھے کسی نے کہا ہے کہ اگر تم مسئلہ کا صحیح حل چاہتے ہو تو کسی وہابی عالم کی طرف رجوع کرو، اس لئے میں نے آپ کی طرف رجوع کیا ہے۔ مجھے جلدی اس کا جواب دیا جائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس قدر طویل سوال کے باوجود بعض امور دریافت طلب ہیں ، تاہم جواب پیش خدمت ہے۔ اس سلسلہ میں چند باتیں ملاحظہ کریں:

اولاً:گرو کا والدین سے عدالتی کاروائی کے ذریعے چھین کر لے کرآنا انتہائی محل نظر ہے، کیونکہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جس کا سہارا لے کر عدالتی کاروائی کے ذریعے اس ‘‘مخلوق’’کو اس کے والدین سے زبردستی چھینا جھپٹی کی جاسکے۔ یقیناًاس میں والدین کی مرضی شامل ہوگی،جس کے متعلق وہ جوابدہ ہوں گے۔ ایسے متعدد واقعات ہمارے مشاہدے میں ہیں کہ اس جنس کے گرو حضرات والدین سے  انہیں لینے آئے ، لیکن والدین نے انکار کردیا اور انہیں دینی مدرسہ میں داخل کرایا۔ دینی تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ وہ گانے بجانے کا دھندا کرنے کے بجائے دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔

ثانیاً:اس کام سے صرف نفرت ہی کافی نہیں ہوگی، بلکہ فریضہ حج کا انتظار کئے بغیر فوراً اس سے توبہ کی جائے۔ اپنے ساتھیوں سے الگ ہوجانا چاہیے،کیونکہ موت کا کوئی پتہ نہیں کب آجائے،اخروی نجات کے لئے برے کام سے صرف نفرت ہی کافی نہیں ،بلکہ اسے اللہ کی بارگاہ میں ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے چھوڑدینا ضروری ہے۔پھر نیک اعمال نماز،روزہ وغیر ہ سے اس کی تلافی کرنا بھی لازمی ہے۔ اس بنا پر سائل کو ہماری نصیحت ہے کہ وہ فوراًاس کام سے باز آجائے اور اپنے ہم پیشہ ساتھیوں سے کنارہ کش ہو کر اخروی نجات کی فکر کرے۔

ثالثاً:رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں یہ جنس موجود تھی،بعض کے نام بھی ملتے تھے کہ وہ معیت ،نافع ،ابوماریہ الجنّہ اور مابور جیسے ناموں سے پکارے جاتے تھے۔ یہ لوگ رسول اللہﷺ کے ساتھ شرائع اسلام ادا کرتےتھے۔ نمازیں پڑھتے ،جہاد میں شریک ہوتے اور دیگر امور خیر بھی بجا لاتے تھے۔ رسول اللہﷺ ان کے متعلق پہلے یہ خیال کرتے تھے کہ یہ بے ضرر مخلوق ہے۔آدمی ہونے کے باوجود انہیں عورتوں کے معاملات میں چنداں دلچسپی نہیں ہے۔ اس لئے آپ ازواج مطہرات کے پاس آنے جانے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے، لیکن جب آپ کو پتہ چلا کہ انہیں عورتوں کے  معاملات میں خاصی دلچسپی ہی نہیں بلکہ یہ لوگ نسوانی معلومات بھی رکھتے ہیں ، تو آپ نے انہیں ازواج مطہرات اور دیگر مسلمان خواتین کے ہاں آنے جانے سے منع فرما دیا، بلکہ انہیں مدینہ بدر کرکے روضہ خاخ، حمرآءالاسد اورنقیع کی طرف آبادی سے دور بھیج دیا ، تاکہ دوسرے لوگ ان کے برے اثرات سے محفوظ رہیں۔ (صحیح بخاری ،المغازی:۴۲۳۴)

رسو ل اللہﷺ نے عورتوں کو حکم دیا کہ انہیں بے ضرر خیال کرکے اپنے پاس نہ آنے دیں ، بلکہ انہیں گھروں میں داخل ہونے سے روکیں۔ (صحیح بخاری، النکاح:۵۲۳۵)

رابعاً:واضح رہے کہ مخنث بنیادی طورپر مرد ہوتا ہے، لیکن مردی قوت سے محروم ہونے کی وجہ سے عورتوں جیسی چال ڈھال اور اداو گفتار اختیار کئے ہوتا ہے۔ یہ عادات اگر پیدائشی ہیں تو انہیں چھوڑنا ہوگا، اگر پیدائشی نہیں بلکہ تکلف کے ساتھ انہیں اختیار کیا گیا ہے تو رسول اللہﷺ نے اس اختیار پر لعنت فرمائی ہے کہ ‘‘وہ مرد جو عورتوں جیسی چال ڈھال اور وہ عورتیں جو مردوں جیسی وضع قطع اختیار کریں اللہ کے ہاں ملعون ہیں۔’’ (صحیح بخاری ،اللباس:۵۷۸۷)

رسول اللہﷺ کے پاس ایک ایسا مخنث لایا گیا جس نے عورتوں کی طرح اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے۔ آپ سے عرض کیا گیا کہ یہ ازخود عورتوں جیسی چال ڈھال پسند کرتا ہے تو آپ نے اسے مدینہ بدر کرکے علاقہ نقیع میں بھیج دیا، جہاں سرکاری اونٹوں کی چراگاہ تھی۔ آپ سے کہا گیا اسے قتل کردیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ ‘‘ مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سےمنع کیا گیا ہے۔ ’’ (ابو داؤد، الادب:۴۹۲۸)

البتہ خنثی اس سے مختلف ہوتا ہے،کیونکہ فقہا کے ہاں اس کے تعریف یہ ہے کہ ‘‘ جو مردانہ اور زنانہ آلات جنسی رکھتا ہو یا دونوں سے محروم ہو۔’’(المغنی لابن قدامہ،ص:۱۰۸،ج ۹)

بلوغ سے پہلے اس کے لڑکے یا لڑکی ہونے کی پہچان اس کے پیشاب کرنے سے ہوسکتی ہے اور بلوغ کے بعد اس کی داڑھی یا چھاتی سے پہچانا جاسکتا ہے۔ بہرصورت وہ شرعی احکام کا پابند ہے،اگر مرد ہے تو مردوں جیسے اور اگر عورت ہے تو عورتوں کے احکام پر عمل کیا جائے۔

خامساً:صورت مسئولہ میں جس طرح تفصیل بیان کی گئی ہے، اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ سائل لڑکی ہے اور اس پر عورتوں جیسے احکام لاگوہوں گے، لیکن حقیقت حال وہ خود ہی بہتر جانتا ہے کہ اگر وہ مرد ہے اور عورتوں جیسی شکل و صورت اختیار کی ہے جو اس کے گرو کی صحبت اور تربیت کا نتیجہ ہے تو اسے اس شکل و صورت کو یکسر ختم کرنا ہوگا، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس طرح عورتوں کا روپ دھارنے والے پر لعنت فرمائی ہے اور اگر وہ حقیقت میں عورت  ہی ہے،نیز گرو کی مجلس نے اس کی نسوانیت کو دو آتشہ کردیا ہے تب بھی اسے یہ کام ختم کرنا ہوں گے اور مسلمان عورتوں کی طرح چادر اور چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا،تاہم احتیاط کا تقاضا ہے کہ حج کے لئے عورتوں جیسا احرام اختیار کرے، یعنی عام لباس پہنے، اپنے چہرے کو کھلا رکھے ، تاہم اگر کوئی اجنبی سامنے آجائے تو گھونگھٹ نکالے، جیسا کہ عائشہؓ کا بیان کتب حدیث میں  مروی ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ حالت احرام میں ہوتیں اور قافلے ہمارے پاس سے گزرتے جب وہ ہمارے سامنے آجاتے تو ہم اپنی چادریں اپنے چہروں پر لٹکا لیتیں اور جب وہ گزر جاتے تو ہم انہیں اٹھا دیتیں۔ (ابوداؤد،المناسک؛۱۸۳۳)

اس کےعلاوہ محرم کی بھی پابندی ہے کہ وہ اپنے کسی محرم کے ساتھ یہ مبارک سفر کرے۔رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کو اس کی بیوی کےسا تھ سفر  حج پر روانہ کیا تھا جبکہ وہ جہاد میں اپنا نام لکھواچکاتھا،اس لئے سائل کو حج پر جانے کے لئے اپنے کسی محرم کا انتخاب بھی کرنا ضروری ہے ،اگر اسے اپنے کسی محرم کا پتہ نہیں ہے، جیسا کہ سوال میں بیان کردہ صورت حال سے واضح ہوتا ہے تو اسے چاہیے کہ چند ایسی عورتوں کی رفاقت اختیار کرے،جن کے محرم ان کےساتھ ہوں،اسے اکیلی عورت یا اکیلے مردوں کے ساتھ سفر کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص482

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)