فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12585
(496) فرقہ بازی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 June 2014 12:50 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فرقہ بازی کیا ہے؟ جسے اللہ تعالیٰ نے معیوب قرار دیا ہےا ور حکومت،نیز عوام الناس بھی اس کی مذمت کرتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اہل تفریق کےمتعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اورخود فرقوں میں بٹ گئے ہیں ،ا ن سے آپ کو کچھ سروکار نہیں،ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔’’ (۶/الانعام:۱۵۹)

فرقہ بازی ایک ایسی لعنت اور باعث مذمت ہے جو ملت کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے رکھ دیتی ہے۔ جب لوگوں میں یہ عادات بدپائی جاتی ہیں، ان کی ساکھ اور عزت دنیا کی نظروں میں گرجاتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی کو اپنے عذاب کی ایک شکل قراردیا ہے۔ چنانچہ  ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تم پر تمہارے اوپر سے کوئی عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے کوئی عذاب مسلط کردے یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک فرقے کو دوسرے سے لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ (۶/الانعام:۶۵)

حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے آیت بالا میں ذکر کردہ تمام قسم کے عذابوں سے اللہ کی پناہ مانگی اور میری امت پر اس قسم کے عذاب نہ آئیں۔ چنانچہ پہلی اور دوسری قسم کے عذابوں کےمتعلق آپ کی دعا قبول ہوگئی مگر تیسری قسم کے عذاب جو فرقہ بندی سے متعلق ہے، دعا قبول نہ ہوئی بلکہ آپ نے اس عذاب کو پہلے دونوں عذابوں کی نسبت آسان قرار دیا ہے۔(صحیح بخاری ،التفسیر:۴۸۲۸)

اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی دو قسم کا عذاب اس امت کے کلی استیصال کےلئے نہیں آئے گا ، البتہ جزوی طورپر آسکتا ہے۔ رہا تیسری قسم کا عذاب تو وہ اس امت میں موجود ہے جس نے ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے مسلمانوں کو ایک مغلوب قوم بنا رکھا ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ نے بطور پیشین گوئی فرمایا تھا:

‘‘بنی اسرائیل بہتر (۷۲)فرقوں میں تقسیم ہوگئے جبکہ میری امت تہتر(۷۳)فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ایک گروہ کے علاوہ سب فرقے جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ ’’ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ نجات یافتہ کون ہوں گے؟آپ نے فرمایا:‘‘جو اس راہ پر چلیں گے جس  راہ پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔’’ (ترمذی ،الایمان،۲۶۴۱)

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اس معیار کی نشاندہی فرمادی ہے جو قیامت کے دن اس کے ہاں اس کے عذاب سے نجات کا باعث ہوگا۔ قرآن پاک میں اسے صراط مستقیم اورسبیل المؤمنین کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرقہ بازوں کو مشرکین کے لفظ سے ذکر کیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘اور ان مشرکین سے نہ ہوجاؤجنہوں نے اپنادین الگ کرلیا اور گروہوں میں بٹ گئے ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی میں مگن ہے۔’’ (۳۰/الروم:۳۲)

اس کی وجہ یہ ہے کہ جس مذہبی یا سیاسی فرقہ کا آغاز بدعتی عقیدہ یا بدعتی عمل سے ہوتا ہے ، مثلاً:کسی رسول یا بزرگ کو اس کے اصلی مقام سے اٹھا کر اللہ کی صفات میں شریک بنادینا،یہی وہ غلو فی الدین ہے۔جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔

پھر یہ فرقہ بازی عموماًدو قسم کی ہوتی ہے۔

٭ایک مذہبی جیسے کسی امام کی تقلید میں بایں طور انتہا پسندی سے کام لیناکہ اس امام کو منصب رسالت پر بٹھا دینا گویا وہ معصوم عن الخطا ہے یا کسی معمولی اختلاف کو کفرو اسلام کی بنیاد قرار دینا یا کسی اہم اختلاف کو باہمی رواداری کے خلاف خیال کرنا وغیرہ ۔

٭دوسری سیاسی جیسے علاقائی ،قومی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنا۔ درج ذیل عقائد اس فرقہ بازی کی زد میں آتے ہیں۔

(۱)اللہ کے بجائے عوام کی بالادستی اور انہیں طاقت کا سرچشمہ قرار دینا۔

(۲)اللہ کی ذات اور انبیاءعلیہ السلام کے معجزات کا انکار۔

(۳)کچھ ائمہ کو معصوم اور مامون قراردینا۔

الغرض جتنے بھی فرقے ہیں ،خواہ مذہبی ہوں یا سیاسی ،ا ن کا کوئی نہ کوئی عقیدہ یا عمل ضرور کتاب و سنت کے خلاف ہوگا۔ بدعی عمل کا تعلق سنت رسول اللہﷺ سے نہیں ہوتا لہٰذا کسی سنت کو دیدہ و دانستہ نظر انداز کردینا یا کسی نئے کام کو ثواب کی نیت سے شروع کردینا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دین میں پہلے کمی رہ گئی تھی جو اس ترمیم یا اضافہ سے پوری کی جارہی ہے۔ اعاذنا اللہ عنہ

اگر مزید غور کیا جائےتوگروہ بندی کی تہہ میں دوہی اغراض پوشیدہ ہوتی ہیں۔ ایک مال کی محبت ،دوسرے اقتدار کی چاہت ، چنانچہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ ‘‘بکریوں کے کسی ریوڑ میں دوبھوکے بھیڑیے اتنی تباہی نہیں مچاتے جتنا مال کی محبت اورمنصب کی چاہت کسی کے ایمان کو برباد کرتی ہیں۔ ’’ (ترمذی ،الزہد:۲۳۷۶)

اس فرقہ بندی سے محفوظ رہنے کا صرف  یہی طریقہ ہے کہ قرآن اور صحیح احادیث کےمطابق زندگی بسر کی جائے اور اس سلسلہ میں دائیں،بائیں جھانکنے سے اجتناب کیا جائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص477

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)