فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 12574
(485) شادی کے بعد بیوی کے نام کے ساتھ خاوند کا نام لگانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 June 2014 11:33 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں معاشرتی طورپر خواتین شادی سے پہلے خود کو اپنے والد کی طرف منسوب کرتی ہیں:مثلاً:‘‘رقیہ محمود’’ یعنی محمود کی بیٹی  رقیہ ،لیکن شادی کے بعد اس نسبت کوترک کرکے اپنے خاوند کی طرف خود کو منسوب کرتی ہیں،مثلاً:‘‘رقیہ عامر’’یعنی عامر کی بیوی ،اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دور جاہلیت میں لوگ لے پالک کو اپنی طرف منسوب کرلیتے تھےا ور اسی نسبت سے اسے پکارا کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی اور ہمیں آگاہ کیا کہ ‘‘ان (منہ بولے بیٹوں)کو ان کے باپوں کے نام سے ہی پکارا کرو،اللہ کے  ہاں یہی انصاف کی بات ہے۔ ’’(۳۳/الاحزاب:۵)

اس آیت کا تقاضا ہے کہ انسان مرد ہو یا عورت اس کی نسبت حقیقی باپ کی طرف ہونی چاہیے۔امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے کہ لوگوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا جائے ،پھر اس کے تحت حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:‘‘قیامت کے دن ہر غدار کے لئے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے۔’’(صحیح بخاری ،الادب:۶۱۷۷)

شارح صحیح بخاری ابن بطال کہتے ہیں کہ باپ کے نام سے پکارنا ہی پہچان میں زیادہ واضح اورامتیاز میں زیادہ بلیغ ہے اور قرآن و حدیث کے دلائل بھی اس بات پر دلالت کرتے ہیں۔ (شرح بخاری،ص:۳۵۴،ج ۹)

جب قیامت کے دن باپ کی نسبت ہی تعارف کا ذریعہ ہو گی تو دنیا میں یہ نسبت اختیار کرنے میں کوئی قباحت ہے۔کتب حدیث میں جہاں فلاں بن فلاں کے نام استعمال ہوتے ہیں، اسی طرح عورتوں کے لئے فلاں بنت فلاں کے الفاظ آئے ،حالانکہ ان میں اکثر خواتین شادی شدہ تھیں۔ سیدہ عائشہ ؓ شادی سے پہلے بھی عائشہ بنت ابی بکر ؓ اور شادی کے بعد بھی انہیں اسی نسبت سے پکارا جاتا تھا۔ کسی موقع پر ‘‘عائشہ محمد ’’ نہیں کہاگیا۔ اس لئے ہمارارحجان اسی طرف ہے کہ شادی کے بعد بھی خواتین کو اپنےباپ کی نسبت سے پکاراجانا زیادہ مناسب ہے۔ معاشرتی طورپر نئی نسبت کو اختیار کرنے میں کئی ایک قباحتیں ہیں،مثلاً:بچی جب اٹھارہ سال کی ہوجاتی ہے تو اس کا شناختی کارڈ باپ کے نام سے بنتاہے۔ شادی کے بعد اسے تبدیل کرنے کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے اور خاوند کی نسبت سے نیا شناختی کارڈ بنانا پڑتاہے۔ جب میاں بیوی سے کسی وجہ سے علیحدگی ہوجاتی ہے تو مزید تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا ہے، کیونکہ قانونی کاغذات میں اس کا نام اپنے شوہر کے نام کے ساتھ منسلک ہوتا ہے،جبکہ شوہراس کے لئے اجنبی ہوچکاہوتاہے۔ جب وہ آگے کسی نئے مرد سے شادی کرتی ہے تو اسےمزید الجھن سے دوچار ہوناپڑے گا،جیسے جیسے اس  کی زندگی میں خاوند وفات ،طلاق اورخلع کی وجہ سے تبدیل ہوتے ہیں،اسی طرح ا س کی شناخت بھی تبدیل ہوتی رہے گی۔اگر ہر بار شناختی کارڈ تبدیل کرانا پڑے تو یہ ایک  دردسر ہے،دراصل مغربی تہذیب نے ہمارے ذہنوں کو خراب کیا ہے۔اسلام نے تو ہماری شناخت باپ سے کی ہے جو کسی صورت میں تبدیل نہیں ہوتی ۔ یہ نسبت دنیا اور آخرت میں برقرار رہے گی، اس لئے ہمیں چاہیے کہ اسی نسبت کو برقرار رکھیں تا کہ پریشانیوں اور الجھنوں سے محفوظ رہیں،ہماری اسلاف خواتین کوبھی یہی طریقہ تھا اور اب بھی بعض مسلم خواتین اپنے نام کے ساتھ اپنے باپ کا نام لگانا ہی پسند کرتی ہیں۔ اسلامی طرز عمل کو اختیار کرنے میں خیروبرکت ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص466

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)