فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12570
(481) شادی کارڈ پر بسم اللہ لکھنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 June 2014 11:16 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شادی کارڈ پر بسم اللہ لکھنا جائز ہے یا نہیں ،کیونکہ اسے بعد میں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شادی کارڈ اگر صرف اطلاع کے لئے ہے تو اسے شائع کرنا اور اس پر بسم اللہ لکھنا جائز ہے۔ رسول اللہﷺ نے مملوک و سلاطین کو جو خطوط لکھے تھے، ان کا آغاز بسم اللہ سے ہوتاتھا، لیکن یہ کسی طور پر جائز نہیں کہ جسے کارڈ دیا جائے جس پر بسم اللہ یا قرآنی آیات یا حدیث لکھی ہوں  وہ اسے کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دے۔ اسی طرح وہ اخبارات و جرائد کہ جن پر اللہ کا نام درج ہوانہیں بے حرمتی سے پھینکنا یا انہیں بطور دسترخوان استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ ایسے اوراق کو ردی کے طورپر دکانداروں کو فروخت کرنا اور ان کو اشیاءصرف کو لپیٹنے کے لئے استعمال کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی بے حرمتی کرتا ہے تو اس کا گناہ لکھنے والے پرنہیں بلکہ گناہ کا حق دار وہ ہوگا جو ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوتا ہے۔ ایسے کاغذوں کوجلادیا جائے یا انہیں حفاظت سے رکھا جائے۔ واضح رہے کہ شادی کارڈ صرف اطلاع کے طورپر ہوتے ہیں لیکن ان پر ہزاروں روپیہ خرچ کیا جاتا ہے ایسا کرنا اسراف ہے، جس کی شریعت نے  اجازت نہیں دی، اس لئے  انہیں اگر  شائع کرنے کی ضرورت ہوتو اس کے لئے سادہ کاغذ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بہترین ،رنگین، ڈیزائن اور خوبصورت طباعت سے مزین کرنا فضول خرچی ہے جس کے متعلق باز پرس ہوسکتی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص464

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)