فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12568
(479) غیر مسلم لونڈی سے اولاد کا مسئلہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 22 June 2014 10:11 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مجلہ اہلحدیث میں شائع ہونے والے احکام و مسائل سے عوام کےساتھ ساتھ اہل علم بھی برابر مستفید ہو رہے ہیں کیونکہ آپ کے فتاوی میں اعتدال پسندی اورقوت استدلال ہوتی ہے، مثلاً:عقیقہ کے جانور کے متعلق بہت سے علما تک مغالطہ کا شکار ہیں، اس سلسلہ میں وہ دودانتہ کی شرط لگاتے ہیں،پھر کچھ حضرات گائے ،بیل میں سات عقیقوں کی بات بھی کرتے ہیں۔ بحمداللہ آپ نے بہت سے شکوک و شبہات کو دور کردیا ہے، آپ کے ایک فتویٰ میں لونڈی کے متعلق مفصل معلومات تھیں۔ایک بات اب بھی تشنہ ہے کہ اگر لونڈی غیر مسلم ہے تو تمتع کی صورت میں اگر اس سے اولاد پیدا ہوتو وہ ام ولد کہلائے گی جبکہ وہ تاحال غیر مسلم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

احکام و مسائل کے کالم میں پیش کردہ فتاوی کے اسلوب و انداز کے متعلق قارئین کرام کی طرف سے اس قسم کے حوصلہ افزا جذبات پر مشتمل متعدد خطوط اور فون موصول ہوتے رہتے ہیں، راقم ان تمام حضرات کا تہہ دل سے شکر گزار ہے جو اپنی مخلصانہ دعاؤں میں اس عاجزو ناتواں کو یاد رکھتے ہیں۔ دراصل اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے یہ محض میرے اللہ کا فضل اور اس کا انتہائی کرم ہے کہ اس نے مجھے یہ فریضہ سرانجام دینے کی توفیق دے رکھی ہے۔ بصورت دیگر‘‘من آنم کہ من دانم’’

علما حضرات سے درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ بندہ کی اس سلسلہ میں ضرور راہنمائی کرتے  رہا کریں۔

احب الصالحین ولست منھم                  لعل اللہ یرزقنی صلاحا

تحدیث نعمت کے طورپر عرض ہے کہ محترم پروفیسر محمد حسین آزاد صاحب سے ہمارا دیرینہ علمی رشتہ ہے، کیونکہ وہ ہمارے ایک حدیث نبوی کے متعلق عظیم منصوبے کے روح رواں ہیں۔ انہوں نے حدیث کی ایک عظیم کتا ب‘‘مستدرک حاکم ’’ کا اردو میں ترجمہ شروع کررکھا ہے۔ اور اس کی آخری جلد کتاب الملاحم والفتن تک ترجمہ مکمل کر لیا ہے۔ فجزاہ اللہ خیر الجزاءقارئین کرام سے استدعا ہے کہ وہ ہمارے اس خواب کے متعلق شرمندہ تعبیر ہونے کی دعا کرتے رہیں۔

جہاں تک آخر میں ذکر کردہ سوال کا تعلق ہے کہ اگر لونڈی غیر مسلم ہے تو تمتع کی صورت میں اس سے اولاد پیدا ہوتو وہ ام ولد کہلائے گی یا نہیں ؟ تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ کفار سے جنگ کی صورت میں وہی مردوزن ،غلام لونڈیاں بنتے ہیں جو اسلام قبول کرنے سے پہلے پہلے گرفتارہوجائیں۔ اگر گرفتار ہونے سے قبل مسلمان ہوجائیں تو انہیں لونڈی یا غلام بنانا شرعاًناجائز ہے ،یہی وجہ ہے کہ لونڈی سے تمتع کرنے کے متعلق کسی بھی اہل علم نے اس کے مسلمان ہونے کی شرط نہیں لگائی۔اس پر تمام فقہا کا اتفاق ہے،ایسے حالات میں اگر اس سے اولاد پیدا ہوجائے تو وہ ام ولد کہلائے گی خواہ وہ مسلمان ہوجائے یا غیر مسلم رہے، ایسی ام ولد آقا ک فوت ہونے کے بعد خود بخود آزاد ہوجائے گی۔ام ولد کے متعلق مسلمان ہونے کی شرط بھی کسی اہل علم سے منقول نہیں ہے،راقم نے اس سلسلہ میں متعدد اہل علم سے مشاورت کی ، کسی نے بھی ام ولد سے متعلق مسلمان ہونے کی شرط سے اتفاق نہیں کیا ، ویسے بھی آج مسلم ممالک میں لونڈی سسٹم تقریباً ختم ہے اور اسلام نے بھی غلام کو ختم کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔(واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص461

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)