فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12565
(476) موجودہ حالات میں چوری کے مال کی مقدار جس پر ہاتھ کاٹا جائے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 June 2014 11:58 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حدیث میں ہے کہ ربع دینار کی مالیت پر چوری کرنے سے ہاتھ کاٹا جائےگا، موجودہ حساب سے ربع دینار کتنی مالیت کا ہےَ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’چور کا ہاتھ صرف ربع  دینار یا اس سے زیادہ مالیت چوری کرنے پر کاٹا جائے۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ اس وقت ربعد دینار تین درہم کے برابر تھا۔ (مسند امام احمد ،ص:۸۰،ج ۶)

سونے کے حساب سے متعلق روایات سے پتہ چلتا ہے کہ دینار، مثقال کے برابر ہوتا ہے ، موجودہ نظام کے مطابق ایک مثقال ساڑھے چار ماشہ کےمساوی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ دینار کا وزن بھی ساڑھے چار ماشہ ہے۔ اس حساب سے ربع ۱.۱۲۵ ماشہ ہوگا۔ اعشاری نظام کے مطابق 3 تولہ  کے 35 گرام ہوتے ہیں جبکہ 3 تولہ 36 ماشہ کے مساوی ہے۔ا س اعتبار سے گرام اور ماشہ میں معمولی سا فرق ہے۔ ہمارے رحجان کےمطابق ایک گرام سونا ، اس کی مالیت کے برابر چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جب ہاتھ نے جرم کیا ہے تو اللہ کے ہاں اس کی یہ قدروقیمت ہے کہ معمولی سی چوری کرنے پر اسے کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب ہاتھ بے گناہ اور معصوم  ہوگا تو اس کی قیمت اللہ کے ہاں یہ  ہے کہ ایک انگشت کی دیت دن اونٹ ہیں ، یعنی اگر کسی نے ایک انگلی ضائع کردی ہے تو اسے دس اونٹ بطور دیت دیناہوں گے۔ (ترمذی ،الدیات:۱۳۹۱)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص459

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)