فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 12564
(475) الیکشن کی شرعی حیثیت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 June 2014 11:55 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الیکشن کی شرعی حیثیت کیا ہے،جماعتی اختلافات ختم کرنے کےلئے الیکشن یا انتخاب کا شرعی طریقہ کیا ہے، کیا الیکشن کمیشن میں سے بعض حضرات کابینہ کے ارکان منتخب ہوسکتے ہیں؟ قرآن و حدیث کےمطابق جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ موجود الیکشن جمہوریت کی پیداوار ہیں ہاں، اگر سنجیدہ فکر اور درددل رکھنے والے حضرات باہمی سرجوڑکر بیٹھیں اور ہچکولے کھانے والی ناؤکوساحل سمندر سے ہم کنار کرنےکے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کریں تو اسلام میں اس کی گنجائش موجود ہے کیونکہ اس میں سربراہ مملکت کے انتخاب کےلئے کوئی لگا بندھا قاعدہ مقررنہیں ہے، بلکہ حالات و ظروف کے پیش نظر اس میں توسیع کو برقرار رکھا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں نہ تو امیدوار کی اہلیت کو دیکھا جاتا ہے اور ووٹر حضرات کے صاحب شعور ہونے کا خیال رکھا جاتا ہے۔ بلکہ دولت کے بل بوتے ،دھونس دھاندلی کے ذریعے جو چاہتا ہے عوام کا نمایندہ بن کر سامنے آدھمکتا ہے، اس سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں ، یعنی گلی کوچوں کا کوڑا کرکٹ اسمبلی میں پہنچ جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک اگر الیکشن کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہ ہوتو امید وار کم ازکم ایسا ہونا چاہیے جو فرائض کا پابند ہو،کبائر سے گریزاں اور جس کاماضٰ داغدار نہ ہو، اسی طرح ووٹرکے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ صاحب شعور اور کھرے کھوٹے کی تمیز کرسکتا ہو۔کسی کو نمایندہ بنانے کا مطلب یہ  ہے کہ اس کےمتعلق اس قدر لیاقت، معاملات کو سلجھانے اور اختلافات کو نمٹانے کے صلاحیت رکھنے کی گواہی دینا ہے۔ اس لئے گواہی دینے والے کےلئے ضروری ہےکہ وہ اچھے برے کے درمیان تمیز کرسکتا ہو اور امیدوار کے کردار کو اچھی طرح جانتا ہو اگر ان باتوں کا خیال نہ رکھاگیا تو فرمان رسول اللہﷺ کےمطابق کہ ’’جب معاملات کی بھاگ دوڑ نالائقوں کے سپرد کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔‘‘

صورت مسئولہ میں اختلافات کو نمٹانے کےلئے ضروری ہے کہ صاحب بصیرت اور گہری سوچ و بچار رکھنے والے حضرات اکٹھے ہوکر کسی ایک جہاں دیدہ کو اپنا امیر منتخب کرلیں اور وہ امیر اپنی صوابدید کےمطابق کمیٹی تشکیل دے اور پھر اس مجلس شوریٰ کے مشورہ سےجماعتی امور کو چلایا جائے، اگر کمیشن نے اپنے میں سے ہی کسی کو منتخب کرنا ہے اور یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے تو کمیشن میں سے کسی کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر ؓ نےچھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی کہ ان میں کسی کو باہمی مشورہ سے منتخب کرلیا جائے۔ اگر پہلے سے طے شدہ نہیں ہے تو پھر کمیشن کے علاوہ کسی اور ساتھی کو اس ذمہ داری کا اہل قرار دیا جائے۔ بہرحال دور  حاضر میں یہ مسئلہ بڑی نازک صورت حال سے دوچار ہے، اس لئے نہایت بصیرت کے ساتھ اس سےنمٹنا ہوگا۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص458

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)